امریکہ میں امیگریشن اہلکاروں نے کار سوار خاتون کو گولی مار دی- ملک گیر احتجاج شروع

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک ہو گئی۔ جس کے بعد پورے ملک میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔

آئی سی ای  جسے آئس بھی کہا جاتا ہے نے دعویٰ کیا کہ خاتون نے اپنی گاڑی سے اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی، لیکن واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا۔ مقامی پولیس کا بھی کہنا ہے کہ خاتون موقع سے گاڑی نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ واقعہ بدھ کے روز ایسٹ 34ویں اسٹریٹ اور پورٹلینڈ ایونیو پر پیش آیا، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر آئی سی ای کی گاڑیوں کو گھیر کر انہیں جانے سے روکنے کی کوشش کی۔

ہلاک ہونے والی 37 سالہ خاتون کی شناخت اس کی والدہ نے رینی نیکول گڈ کے نام سے کی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ خود کو ایک آئینی مبصر قرار دیتی تھیں۔

آئی سی ای کے مطابق رینی گڈ نے اپنی ایس یو وی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایک اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی، جس پر اہلکار نے جان کے خطرے کے پیش نظر دو فائر کیے۔ ایک گولی خاتون کے سر میں لگی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں ایک گاڑی کو اہلکار سے ٹکراتے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اہلکار نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی اور یہ واقعہ بائیں بازو کے شدت پسند عناصر کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق زخمی اہلکار اسپتال میں زیر علاج ہے اور صحتیاب ہو رہا ہے۔

منیاپولس پولیس کا مؤقف آئی سی ای اور صدر کے بیان سے مختلف ہے۔ پولیس کے مطابق خاتون سڑک بند کیے ہوئے تھی اور جب ایک اہلکار نے گاڑی کے قریب جانے کی کوشش کی تو وہ وہاں سے نکلنے لگی، اسی دوران فائرنگ ہوئی۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے پہلے آئی سی ای کی گاڑیوں پر برف کے گولے اور دیگر اشیا پھینکیں، جس کے بعد اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کیمیکل شیل استعمال کیے۔

واقعے کے بعد مقامی پولیس اور ایف بی آئی نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب منیاپولس میں امیگریشن کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں۔

منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز کو واقعے پر بریفنگ دی گئی، جبکہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوئم نے واقعے کو داخلی دہشتگردی قرار دیا۔

منیاپولس کے میئر جیکب فری نے اس واقعے کا ذمہ دار آئی سی ای کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کبھی پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی ای کی موجودگی شہر میں افراتفری اور عدم اعتماد کو جنم دے رہی ہے، اور وفاقی اہلکاروں کو شہر چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر نفرت کے جواب میں اتحاد اور محبت کا راستہ اپنائے گا۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیاں پورے معاشرے پر حملے کے مترادف ہیں، جو خوف اور عدم تحفظ کو بڑھا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیویارک ریاست آج بھی اور آئندہ بھی تارکینِ وطن کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

اس واقعے پر پورے امریکہ میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔