انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان نازک جنگ بندی برقرار ہے، تاہم عسکریت پسندوں کے حملے جاری رہے تو پاکستان دوبارہ سرحد پار کارروائی کر سکتا ہے۔
برسلز میں قائم آزاد تھنک ٹینک کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بنیادی تناؤ کی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا ہے۔ 2022 کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جن میں زیادہ تر حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ان حملوں کا ذمہ دار کالعدم ٹی ٹی پی کو قرار دیتا ہے، جبکہ بعض بلوچ باغی گروہوں پر بھی بیرونی حمایت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مانیٹرز کے مطابق ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے، تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں۔
آئی سی جی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں افغانستان سے کسی بڑے حملے کا سراغ ملا تو پاکستان ایک بار پھر سخت عسکری ردعمل دے سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos