طالبان کے کامیابی دعوے بے بنیاد،2025 عالمی تنہائی اور سفارتی ناکامیوں کا سال قرار

جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں تعینات افغان نمائندے نے طالبان حکومت کی جانب سے 2025 کو کامیابی کا سال قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

دی کابل ٹریبیون کے مطابق افغان نمائندے نصیر احمد اندیشہ نے بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ سال 2025 درحقیقت طالبان حکومت کے لیے عالمی تنہائی، سفارتی ناکامیوں اور اسٹریٹجک کمزوریوں کا مظہر رہا۔

نصیر احمد اندیشہ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں بیشتر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بجائے کشیدگی دیکھنے میں آئی، جبکہ افغانستان کے اندر سیکیورٹی صورتحال بھی مسلسل خراب ہوتی رہی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، جسے کسی طور کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے لکھا کہ طالبان حکومت کی ناقص حکمرانی اور غیر مؤثر پالیسیاں ہی اس بگڑتی صورتحال کی بنیادی وجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2025 کو کامیاب سال قرار دینا نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔

افغان نمائندے کے مطابق اس عرصے کے دوران طالبان نہ صرف بین الاقوامی حمایت سے محروم ہوتے گئے بلکہ ان کی ساکھ اور عالمی سطح پر قبولیت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بڑھا اور داخلی سطح پر طالبان کی نااہلی نے افغان ریاست کو مزید عدم استحکام سے دوچار کیا۔

نصیر احمد اندیشہ نے نشاندہی کی کہ خواتین سمیت عام شہری بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہے، جو کسی بھی حکومت کے کامیابی کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ محض بیانات اور دعوؤں کے ذریعے زمینی حقائق کو نہیں بدلا جا سکتا اور طالبان حکومت دنیا کو طویل عرصے تک گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔