مشرقی بھارت میںیک ہاتھی نے کم از کم 17 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ریاست جھارکھنڈ میں حکام نے بتایا کہ ایک بالغ نر ہاتھی نے سارندا جنگل کی پٹی میں سات دنوں میں کم از کم ایک درجن حملے کیے ہیں۔ اس نے دو دنوں میں مغربی سنگھ بھوم ضلع میں الگ الگ حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد سمیت 13 افراد کو ہلاک کیا۔
10لوگ زخمی ہیں۔
بھارتی اخبارکے مطابق حکام نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہاتھی بدمعاش بن گیا ہے اور ہماری توجہ اب اسے جلد سے جلد پرسکون کرنے پر ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ مستی میں ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی جارحیت کی وضاحت کرتا ہے۔ ہم حالات کو کنٹرول کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
محکمہ جنگلات نے اس جانور کو کنٹرول کرنے اور اسے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 80 اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔ پڑوسی ریاست مغربی بنگال کے ماہرین بھی ہاتھی کو جنگل میں واپس لے جانے پر کام کرر ہے ہیں۔
ہاتھی کے پاگل پن نے ریلوے کو علاقے میں چھ ٹرینوں کی دوطرفہ آمدورفت منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
متاثرہ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ خوف کی لپیٹ میں ہے، خاندان گھر وں میں محصور ہیں ،بچوں اور بوڑھوں کی حفاظت کا خاص خیال رکھاجارہاہے۔ حکام نے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگلاتی علاقوں کارخ کرنے سے گریز کریں اور چوکس رہیں۔
ریجنل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ نےبتایا کہ حملوں کا انداز یکساں ہے۔ہاتھی اندھیرے کے بعد پرتشدد ہو جاتا ہے، ور گاؤں والوں پر حملہ کرتا ہے۔یہ بہت تیزی سے حرکت کرتا ہے اور اپنی جگہوں کو بدلتا رہتا ہے، ہماری ٹیموں کو چکمہ دیتا ہے۔ لیکن دن کے وقت، یہ جنگلوں کے اندر چھپ جاتا ہے۔
وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جھاڑکھنڈ میں گزشتہ 23 سال کے دوران ہاتھیوں کے حملوں سے تقریباً1300اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos