ایران میں غیرقانونی ہتھیاروں کی کھیپ پکڑی گئی۔ ملکی سلامتی سرخ لکیر،پاسداران انقلاب

ایران میں 2ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران غیرقانونی ہتھیارپکڑے گئے ہیں۔ مشرقی آذربائیجان میں پراسیکیوٹر موس خلیل اللہی نے تبریز میں 220ہتھیار ضبط کرنے اور 3اسمگلروں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا، جن میں 100پستول اور 120رائفلیں شامل تھیں۔ یہ ہتھیار سرحدی راستوں سے چھپ کر داخل کیے گئے اور ان کا مقصد دیگر صوبوں میں تقسیم کرنا تھا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی ایک ریڈ لائن ہے،ور فوج عوامی اور سرکاری اثاثوں کی حفاظت جاری رکھے گی۔فوج نے عوام سے چوکسی اور یکجہتی کی اپیل کی اور کہا کہ دشمن پر اسرائیل اور ایران کے نزدیک دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کا الزام ہے۔ وہ نئی سازش کے تحت شہری نظام اور سکیورٹی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فوج نے کہا کہ وہ علی خامنائی کی قیادت میں دیگر افواج کے ساتھ علاقے کی نگرانی اور اہم اثاثوں کی حفاظت جاری رکھے گی۔ایرانی ٹی وی نے بتایا کہ تہران میں 42بسیں، کئی گاڑیاں، ایمبولینسز اور 10 سرکاری عمارتیں جلائی گئیں۔ اسفراین میں ایک پراسیکیوٹر اور متعدد سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہوئے۔

ایران میں جمعے کو بھی رات گئے تک بدامنی جاری رہی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے مغرب میں واقع کرج میں ایک بلدیاتی عمارت کو آگ لگا دی گئی، جس کا الزام شرپسندوں پر عائد کیا گیا۔ سرکاری ٹی وی نے شیراز، قم اور ہمدان میں سکیورٹی اہلکاروں کی تدفین کی فوٹیج نشر کی، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مظاہروں کے دوران مارے گئے۔
علی خامنائی نے کہا ہے کہ حکومت تخریب کار عناصر کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

احتجاج کرنے والے افراد تہران کے سعادت آباد علاقے میں برتن بجا تے اور نعرے لگا تے سڑکوں پر نکلے، اور دیگر مقامات جیسے مشہد، تبریز اور قم میں بھی مظاہرے ہوئے۔ ایران میں اس وقت انٹرنیٹ کی مکمل بندش ہے۔ اس کے بارے میں نیٹ بلوکس نے کہا کہ یہ حکومت کی طرف سے تشدد چھپانے کا حربہ ہے۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد گروہ گزشتہ دو راتوں کے دوران فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہے، جس کے نتیجے میں متعدد شہری اور سکیورٹی اہلکار مارے گئے اور املاک کو آگ لگا دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔