میانمار کے ایک بے آباد اور ویران شہرمیں بھی الیکشن کا انعقاد

 

میانمارکے ایک بے آبادشہرمیں بھی الیکشن کرایاجارہاہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہپاپن قصبہ انسانی آبادی سے خالی ہے۔ یہ کسی زمانے میں بینکوں، علاقائی سرکاری دفاتر اور آس پاس کی وادیوں کو سپلائی کرنے والے اسٹورز کے ساتھ ایک پررونق مرکز تھا۔یہاں تک کہ اس کا اپنا ہوائی اڈہ بھی تھا۔برسراقتدار فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ ہپاپن ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہوگا ،جو دسمبر کے آخر میں پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعدعام انتخابات دوبارہ شروع ہورہے ہیں۔

 

نشریاتی ادارے کا کہناہے کہ اب یہ ایک بھوت شہر ہے۔اس کے تھانے کی دیوار پر، ایک بورڈ نصب ہے، جس پر انگریزی میں لکھاہے کہ کیا ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں؟ لیکن اندر، سرخ پس منظر پر ایک سفید کھوپڑی اور کراس کا نشان، اندر بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے خبردار کرتی ہیں۔

 

الجزیرہ کے مطابق جب کئی ہفتے قبل ہپاپن کا دورہ کیاگیا، تو اس قصبے میں ایک بھی انسان باقی نہیں تھی، تمام کاروباری مراکز اور مکانات کو یا تو جلا دیا گیا، بمباری سے تباہ ہوگئے یا عمارتیں جھاڑجھنکار میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ ووٹنگ ایک ٹیکٹیکل کمانڈ پوسٹ کے اندر ہورہی ہے۔ لیکن جو بھی اپنا ووٹ ڈالنا چاہتا ہے اسے بارودی سرنگوں، بوبی ٹریپس اور تقریباً 800 فوجیوں سے گذر کر جاناہوگا، جو 2024 سے محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔

جنگجوئوں کے ایک گروپ پیپلز ڈیفنس فورس کے کمانڈر ٹن او کا کہناہے کہ فوجی جنتا کا الیکشن ایک دھوکہ ہے۔ یہ ایک جعلی الیکشن ہے جو ان کی غیرقانونی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے کرایاجارہا ہے۔

پورے میانمار میں کم از کم35 لاکھ ووٹرز ووٹ نہیں ڈال سکیں گے کیونکہ وہ خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہوچکے ہیں۔

 

حتمی نتائج جنوری میں مزید دو مرحلوں کے بعد سامنے آئیں گے اور توقع ہے کہ سینئر جنرل من آنگ لائنگ صدر کا عہدہ سنبھالیں گے۔وہ 2021 میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اقتدار پر قابض ہیں۔ سرکاری اور حتمی نتائج فروری میں متوقع ہیں۔

 

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب موجودہ نظام کو قانونی حیثیت دینے کا ایک ڈھونگ ہے۔ فوجی حکومت نے فروری 2021 میں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کیا اور ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو دوسرا دور حکومت شروع کرنے سے روک دیا، حالانکہ اس نے 2020 کے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔