حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس نے غزہ میں سرکاری اداروں کے انتظامی اختیارات فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔عرب میڈیاکے مطابق حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اتوار کے روز جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ تحریک نے تمام سرکاری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو ادارے منتقل کرنے کے لیے مکمل تیاری کریں۔
ٹائمزآف اسرائیل کے مطابق ،قاسم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ واضح اور حتمی ہے، اور اس میں اعلیٰ قومی مفاد اور غزہ کی جنگ کو ختم کرنے کے منصوبے کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس فلسطینی ایجنسی کے کام کی کامیابی کو آسان بنانے کے لیے ہدایات بھی موجود ہیں۔
ٹرمپ اس ہفتے بورڈ آف پیس کی تشکیل کا اعلان کریں گے جو فلسطینی کمیٹی کی نگرانی کرے گا۔
جمعہ کو حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کے امور کی نگرانی کے لیے آزاد فلسطینی شخصیات پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل شروع کرنے کا انتظار کر رہی ہے۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں کہاتھا کہ حماس اور فلسطینی دھڑوں نے پٹی کے انتظام کے لیے ایک آزاد کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اختیارات کی منتقلی کے عمل کو آسان بنانے اور کمیٹی کی جانب سے اپنے فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی۔
حازم قاسم نے واضح کیا تھاکہ حماس نے پہلے ہی اپنا موقف طے کر لیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کے انتظام سے متعلق کسی بھی مستقبل کے انتظامی انتظامات میں حصہ نہیں لے گی۔
صدرٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں دوسرے مرحلے سے متعلق تجاویز میں غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلا، تعمیرِ نو کے عمل کا آغاز، ایک عبوری حکمران ادارے کی تشکیل اور حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاملہ شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2025 کے آخر میں اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کو جلد از جلد نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ حماس کا غیر مسلح ہونا سیاسی عمل میں آگے بڑھنے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔
بورڈ آف پیس کے برعکس، فلسطینی کمیٹی کی تشکیل مبینہ طور پر ابھی تک واضح نہیں ۔فلسطینی اتھارٹی کے ایک ذریعے نےبرطانیہ میں قائم قطری خبررساں ادارےالقدس العربی کو بتایا کہ حماس اور الفتح، جو فلسطینی اتھارٹی پر غلبہ رکھتا ہے، نے ابھی تک اس کمیٹی کے سربراہ، فلسطینی وزیر صحت مجید ابو رمضان، جو غزہ کے سابق میئر ہیں، کے علاوہ دیگر اراکین پر اتفاق نہیں کیا ۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مصری دارالحکومت قاہرہ اگلے ہفتے حماس کے ایک وفد کی میزبانی کرے گا تاکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے اور پٹی کے انتظام کے لیے کمیٹی کے مجوزہ ناموں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos