فلسطینی اتھارٹی کے بغیر اختیارات کی منتقلی غزہ اور مغربی کنارہ الگ کردے گی۔فتح کاحماس پراعتراض

فلسطینی تنظیم ’’فتح موومنٹ‘‘نے کہاہے کہ اگر حماس تنظیم فلسطینی قومی اتھارٹی کی نگرانی کے بغیر ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی بنانے پر رضامند ہو گئی، تو اس کا مطلب علاحدگی کی طرف بڑھنا ہو گا۔ ترجمان منذر الحائک کے مطابق اگر انتظامیہ کاڈھانچہ بیرونی ہو گا توغزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ الگ الگ خطے بن جائیں گے۔

عرب میڈیاکے مطابق الحائک نے زور دیا کہ واحد راستہ یہ ہے کہ حماس کا سیاسی وفد مصر جائے، ثالثوں سے ملاقات کرے اور واضح طور پر یہ اعلان کرے کہ وہ ایسی کمیٹی تشکیل دینے سے انکار کرتی ہے جس کا مرجع فلسطینی قومی اتھارٹی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سطحوں پر حماس کے ساتھ رابطے جاری ہیں، مگر اب تک کوئی واضح جواب نہیں ملا۔

الحائک نے بتایا کہ فلسطینی اور فتح موومنٹ کا بھی یہ موقف ہے کہ عبوری مرحلے میں غزہ کی انتظامیہ کے لیے ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ہو اور فلسطینی وزیر کی قیادت میں کام کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال اب ایک سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فلسطینی قانونی سیاسی نظام کی ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری کو امداد اور تعمیر نو کے لیے متحرک کیا جا سکے۔

’’العربيہ‘‘کے مطابق ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ فلسطینی گروپ آج قاہرہ میں ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی کے قیام پر بات کریں گے۔

 

مزید پڑھیں: غزہ میں اختیارات فلسطینی کمیٹی کے سپردکرنے کی ہدایات جاری۔حماس ترجمان

حماس نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ غزہ کے تمام سرکاری اداروں اور محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مکمل تیاری کر لیں تاکہ علاقے کی انتظامیہ ایک آزاد فلسطینی "ٹیکنوکریٹس” کمیٹی کو سونپی جا سکے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ "یہ اقدام قومی سمجھوتوں کے جواب میں کیا گیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق غزہ میں امن کونسل تشکیل دینے کی نیت کے پیش نظر ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام محکموں کو اس عمل کو آسان بنانے اور کمیٹی کے کام میں کامیابی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ قاسم نے کہا کہ فیصلہ حتمی اور واضح ہے اور یہ فلسطینی اعلیٰ مفاد میں ہے اور اس کا مقصد وہ منصوبہ ہے جو غزہ میں جنگ روکنے کے لیے شرم الشیخ میں طے پایا تھا۔

فلسطینی گروپوں نے 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ غزہ کی پٹی کی عبوری انتظامیہ ایک عبوری فلسطینی کمیٹی کو سونپی جائے جو علاقے کے آزاد اور ماہر افراد پر مشتمل ہو۔گروپوں نے یہ بھی کہا تھاکہ فلسطینی رہنمائی اور قیادت کے لیے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو ایک متفقہ حکمت عملی کے تحت فعال کیا جائے تاکہ وہ قانونی اور واحد نمائندہ ادارہ بنے۔

غزہ کی انتظامیہ کی کمیٹی امن معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے جڑی ہوئی ہے، مگر اب تک اس کا آغاز نہیں ہوا، حالانکہ مصر نے اس کے قیام کی تجویز پہلے پیش کی تھی۔
مصری تجویز کے مطابق ایک آزاد اور ماہر شخصیات پر مشتمل ٹیکنوکریٹس کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس کا فلسطینی گروپوں نے اس وقت خیر مقدم کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔