فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایران میں فسادات کے دوران 12ہزار ہلاکتوں کا مضحکہ خیز کا دعویٰ

تہران:برطانیہ میں قائم ویب سائٹ اور ٹی وی چینل ایران انٹرنیشنل نے مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ  ایران میں جاری حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران کم از کم 12 ہزار افراد  مارے  گئے ہیں، جبکہ ملک بھر میں اطلاعات کے تبادلے پر سخت ترین بلیک آؤٹ نافذ ہے۔ اپوزیشن سے وابستہ ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے “The killing of 12,000 Iranians will not be buried in silence” کے عنوان سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے، جس میں تازہ ترین احتجاجی لہر کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق اپنی تحقیقات اور شواہد پیش کیے گئے ہیں اور عوام سے دستاویزات اور گواہیاں فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق ایران اس وقت ایک منظم اور ہمہ گیر بلیک آؤٹ کی زد میں ہے، جس کا مقصد صرف سیکیورٹی کنٹرول نہیں بلکہ حقیقت کو چھپانا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، مواصلاتی نظام کی معطلی، میڈیا پر قدغنیں اور صحافیوں و عینی شاہدین کو دھمکیاں ایک ہی مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہیں: ایک بڑے اور تاریخی جرم کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے بعد شواہد کی مقدار اور مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات اس سطح تک پہنچ گئیں کہ نسبتاً درست اندازہ ممکن ہو سکا۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ایران انٹرنیشنل کے ایڈیٹوریل بورڈ نے ایک سخت اور کئی مراحل پر مشتمل جانچ کے عمل کے تحت معلومات کا جائزہ لیا۔ ان معلومات میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریب ایک ذریعے، صدارتی دفتر کے دو ذرائع، مشہد، کرمانشاہ اور اصفہان میں پاسداران انقلاب کے اندر موجود متعدد ذرائع، عینی شاہدین اور مقتولین کے اہل خانہ کی گواہیاں، فیلڈ رپورٹس، طبی مراکز سے منسلک ڈیٹا، اور مختلف شہروں میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی فراہم کردہ معلومات شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے جانے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، جن کی عمر 30 سال سے کم تھی۔ دستیاب ڈیٹا اور قابلِ اعتماد ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کی کراس چیکنگ کے بعد، جن میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور صدارتی دفتر بھی شامل ہیں، اسلامی جمہوریہ کے سیکیورٹی اداروں کا ابتدائی تخمینہ بھی کم از کم 12 ہزار ہلاکتوں کی تصدیق کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔