فسادات پر قابو پانے کی نئی ایرانی حکمت عملی پر امریکی حیران

ایران نے ملک گیر مظاہروں کو تیزی سے اور فیصلہ کن طور پر کچلنے کے لیے نئی تکنیکیں استعمال کی ہیں، جو ایک ایسی حکومت کی جانب سے حکمت عملی میں تبدیلی کا اشارہ ہے جو اب اندرونی اختلاف کو اسرائیل کے ساتھ موسم گرما کی جنگ کی توسیع کے طور پر دیکھتی ہے۔ماہرین کے مطابق ایرانی حکومت کے فسادات پر قابو پانے کے پرانے طریقے تیزی سے جدید تکنیک میں تبدیل ہو گئے،جو جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی کو جدید نفسیاتی کارروائیوں کے ساتھ جوڑ کراستعمال کرنے پر مبنی ہے۔

نچلی پرواز کرنے والے نگرانی کے ڈرون، سگنل جیمرز، تیز رفتار ردعمل کا پروپیگنڈہ اپریٹس، اور طاقت کی پرتشدد تعیناتی ایک ہی وقت میں بدامنی کی ہر لہر سے سبق حاصل کرنے کی خواہشمند حکومت نے کی تھی۔

احتجاج کچلنے کے لیے ایران کی تازہ ترین حکمت عملی،گذشتہ جون میں12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی حیران کن گہری دراندازی کے بعد اختیار کیے گئے اسباق پرمبنی ہے۔
حکومت اب داخلی بدامنی کی تازہ ترین لہر کو اسرائیل کے ساتھ ’’جنگ کے تیرہویں دن‘‘کے طور پر دیکھتی ہے، مظاہرین کو غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر پینٹ کرتی ہے جن سے نمٹناضروری ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایاہے کہ سڑکوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے مظاہرین کی کڑی نگرانی کی گئی، لیکن ان لوگوں کو بھی دیکھا جا رہا تھا جنہوں نے اپنے گھروں سے حکومت مخالف نعرے لگا کر اپنی کھڑکیوں سے احتجاج کیا۔ ایرانی پولیس نے قال شناخت آوازیںکے عنوان سے ایک ویڈیو تقسیم کی ہے جس میں ڈرونز کو اپارٹمنٹ کی عمارتوں کے باہر منڈلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو حکومت مخالف نعرے بازی میں ملوث لوگوں کو تلاش کررہے ہیں۔

فوٹیج میں ایک ڈرون آپریٹر کو رہائشی عمارات کی کھڑکیوں میں جھانکتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو آمر کو موت جیسے نعرے لگانے والوں کی شناخت کرتاہے، جس کے بعد سیکیورٹی کے انتباہی اسٹیکرز کے ساتھ عمارتوں کو نشان زد کرنے کے مناظر دکھائے گئے ہیں، اور بعض میں، رہائشیوں کو گرفتارکیا جاتاہے۔

سیکیورٹی فورسز کا ایک رکن ایرانی میڈیا کے ذریعے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی دھندلی ویڈیو میں ایک شخص کو بتاتا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ آپ کی عمارت میں کوئی نعرہ لگا رہا ہے اور وہ نعرہ آپ کے اپارٹمنٹ سے آرہا ہے۔ ایران کی قومی پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے پوسٹ میں لکھا گیاکہ سب کچھ نگرانی میں ہے۔

ایک اور حربہ غیر معمولی پیمانے پر مواصلاتی بلیک آؤٹ تھا۔ کئی دنوں تک ایران تک بیرونی دنیا سے پہنچنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ یہاں تک کہ سپیس ایکس کے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹرمینلز، جو ایرانیوں نے پابندیوں کوبے اثرکرنے کے لیے استعمال کیے، اس کوایسے طریقے سے جام کیا گیا جسے ماہرین ملٹری گریڈ ٹیکنالوجی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

ایک ایرانی سائبر سیکیورٹی ماہر اور نیویارک شہر میں قائم میان گروپ کے ڈائریکٹر، ڈیجیٹل ایڈوکیسی گروپ امیر راشدی کے مطابق یہ باقاعدہ جامنگ نہیں تھی، ان کے پاس کسی قسم کا فوجی سازوسامان ہوتا ہے۔

انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو قومیانے کے لیے ، کئی دہائیوں سے جاری دبائواوربین الاقوامی پابندیوںنے ایران کو آن لائن سرگرمیوں کو سنسر کرنے،ان کا گلا گھونٹنے اور کنٹرول کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت دی ہے۔

ایران نے 2019 میں ایندھن کی قیمتوں کے خلاف احتجاج اور 2022 میں خواتین کے حقوق پر مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند کر دیاتھا لیکن حالیہ بلیک آؤٹ کا پیمانہ اور نفاست حکومت کی کمیونیکیشن کنٹرول کو فعال اور نافذ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس کے بانی، الپ ٹوکر نے سی این این کو بتایاکہ اب آپ اس عمل کی مکمل آٹومیشن کو دیکھ رہے ہیں اور یہ فوری بروئے کارآتا ہے،یہ انٹرنیٹ کی شدید ترین رکاوٹوں میں سے ایک ہے جس کا ہم نے پوری دنیا میں مشاہدہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔