فائل فوٹو
فائل فوٹو

جب امریکی ڈیلٹا فورس کو بچانے پاک فوج میدان میں آئی

مسلسل ناکامیوں کے حصار میں گھری امریکہ کی ایلیٹ ڈیلٹا فورس بالآخر اپنی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ وینزویلا کے صدر کے اغوا کی حالیہ کارروائی سے قبل ڈیلٹا فورس کی آخری بڑی کامیابی 2003ء میں صدام حسین کی گرفتاری کی صورت میں سامنے آئی تھی۔ اس کے بعد پے در پے ناکامیوں کے نتیجے میں امریکی قیادت نے اسامہ بن لادن کے خلاف انتہائی حساس آپریشن کیلئے بھی اس فورس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور یہ اہم ترین مشن نیول سیلز کے سپرد کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس بھی اس فورس کو اس وقت شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک تربیتی مشق کے دوران پیرا شوٹ حادثے میں اس کے متعدد اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ ان میں سے کئی معذور ہوگئے۔ جس کے باعث فورس کی پیشہ ورانہ ٹریننگ پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا تھا۔ امریکی ڈیلٹا فورس کا ماضی ایسی شرمناک شکستوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اس ایلیٹ فورس کو ریسکیو کرنے کیلئے امریکہ کو پاک افواج کے خصوصی دستوں کا محتاج ہونا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق ڈیلٹا فورس کا پہلا ناکام آپریشن 1980ء میں سامنے آیا۔ جب ایگل کلا کے نام سے ایران میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے آپریشن لانچ کیا گیا۔ یہ مشن صحرائی طوفان اور ہیلی کاپٹرز کے ٹکراؤ کے باعث 8 فوجیوں کی ہلاکت پر ختم ہوا۔ اسی طرح 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں میں بن لادن کو پکڑنے میں ناکامی نے ڈیلٹا فورس کی پیشہ ورانہ ساکھ پرسوالیہ نشان ثبت کردیا۔ تاہم اس کی تاریخ کی ذلت آمیز ناکامی صومالیہ میں وہ معرکہ تھا۔ جس نے اسے موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 1993ء میں ڈیلٹا فورس اور امریکی رینجرز موغادیشو کی باکارہ مارکیٹ کے بیچوں بیچ ایسے جال میں پھنس چکی تھی جہاں سے نکلنے کی ہرکوشش مزید لاشیں گرا رہی تھی۔ آپریشن گوتھک سرپنٹ کے دوران صومالی جنگجوؤں نے ڈیلٹا فورس کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر مار گرائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ڈیلٹا فورس اور رینجرز کے دستے چاروں طرف سے مشتعل مسلح گروہوں کے حصار میں آ گئے۔ جبکہ جدید ترین ہتھیاروں کے باوجود امریکی کمانڈوز کے پاس جان بچا کر نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ یہ وہ نازک موڑ تھا، جب ڈیلٹا فورس مکمل بے بس ہو چکی تھی اور موت اس کی منتظر تھی۔

اس آپریشن میں اٹھارہ ڈیلٹا کمانڈو ہلاک ہوگئے تھے اور باقی بچ جانے والے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ اس سنگین صورتحال میں یو این کے ماتحت کام کرنے والی پاک فوج کے جری جوانوں نے وہ تاریخی مہربانی کی۔ جو آج بھی عالمی عسکری تاریخ میں سنہرے حروف سے درج ہے۔ پاک فوج کے 19 لانسرز کے دستوں نے اپنے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ اس جہنم نما میدانِ جنگ میں چھلانگ لگائی۔ پاکستانی ٹینکوں نے صومالی مزاحمت کو چیرتے ہوئے ڈیلٹا فورس اور رینجرز کے جوانوں کو موت کے منہ سے باہر نکالا۔

اس یونٹ کے بچ جانے والے کمانڈر جنرل تھامس مونٹگمری کا کہنا تھا ’’بہت سے امریکی فوجی آج اس لیے زندہ ہیں، کیونکہ پاکستانی فوجیوں نے انہیں ریسکیو کیا‘‘۔ انہوں نے اس ریسکیو آپریشن کے دوران پاکستانی جوانوں کی بے خوفی اور صلاحیت کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق وینزویلا میں حالیہ آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو کی کامیابی کا دارومدار ڈیلٹا فورس کی مہارت سے زیادہ فضائی دستوں پر تھا۔ اگرچہ ڈیلٹا فورس نے براہِ راست گرفتاری کا حساس مشن سرانجام دیا۔ لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ 160th اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن ریجمنٹ جسے نائٹ اسٹالکرز بھی کہا جاتا ہے، اس پورے آپریشن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی۔

اس یونٹ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی، کیونکہ وینزویلا کا دفاعی نظام روسی ساختہ S-300 میزائلوں اور جدید ریڈاروں سے لیس تھا، جسے عبور کرنا کسی بھی عام فضائی دستے کیلئے ناممکن تھا۔ مگر نائٹ اسٹالکرز نے اپنی روایتی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے اس ناقابلِ تسخیر رکاوٹ کو عبور کیا۔ ان پائلٹس نے انتہائی درستگی کے ساتھ ڈیلٹا فورس کو عین مادورو کے کمپاؤنڈ پر اتارا۔ یہ ’’بلیک آؤٹ‘‘ لینڈنگ اس قدر خاموش اور اچانک تھی کہ مقامی دفاعی فورسز کو سنبھلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔

اس زمینی اور فضائی مہم کو مزید استحکام دینے کیلئے امریکی فضائیہ کے جدید ترین اسٹیلتھ طیاروں، ایف 22 اور ایف 35 نے فضا میں ایک ناقابلِ تسخیر حفاظتی حصار قائم کر رکھا تھا۔ ان لڑاکا طیاروں نے وینزویلا کی پوری ایئر فورس کو زمین پر مفلوج کیے رکھا اور کسی بھی ممکنہ فضائی مداخلت کے خطرے کو جڑ سے ختم کردیا۔

ماہرین کے مطابق اگر نائٹ اسٹالکرز کی فراہم کردہ فضائی برتری موجود نہ ہوتی تو ڈیلٹا فورس کیلئے ٹارگٹ تک پہنچنا تو دور، سرحد عبور کرنا بھی ناممکن تھا۔ واضح رہے کہ ڈیلٹا فورس کو دی یونٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس فورس کے اہلکار اپنی شناخت چھپانے کیلئے اکثر عام لباس اور داڑھیوں میں رہتے ہیں۔ اگرچہ ڈیلٹا فورس میں بھرتی کا معیار دنیا میں مشکل ترین ہے۔ جہاں 90 فیصد سے زائد امیدوار کڑی جسمانی و ذہنی آزمائشوں میں فیل ہو جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔