ایران میں مواصلاتی بلیک آئوٹ کم ازکم 10دن جاری رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین

 

ایران میں لوگ ایک ایسے مواصلاتی شٹ ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی قسم کا پیغام باہر تک پہنچانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق اب تک ملک کے 95 سے 99 فیصد تک مواصلاتی نیٹ ورک، موبائل فون، انٹرنیٹ سگنلز اور لینڈ لائن ٹیلی فون، بند کر دیے گئے ہیں۔منگل کی صبح کچھ لوگوں کے لیے بین الاقوامی نمبروں پر کال کرنے کی سہولت جزوی طور پر بحال کی گئی تھی، لیکن بیرونِ ملک سے آنے والی کالز اب بھی بند ہیں اور عام لوگوں کے لیے انٹرنیٹ تاحال دستیاب نہیں۔

بتایاگیاہے کہ اس مکمل بندش سے ہر چیز متاثر ہوئی ہے۔ چیک کیش نہیں ہو پا رہے، پیسوں کا بہاؤ رک گیا ہے، کاروبار متاثر ہو رہا ہے، ٹرک ڈرائیور معمول کے مطابق کام نہیں کر پا رہے ، اس لیے فیکٹری سے صارف تک سامان نہیں پہنچ پا رہا ہے، یہ روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہا ہے۔ عمومی طور پر شام کے اوائل میں مواصلات مکمل طور پر بند ہو جاتے ہیں، روزمرہ کی بنیادی سہولیات جیسے کارڈ مشینیں اور اے ٹی ایم بھی کام نہیں کرتیں، جس سے زندگی نہایت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: فسادات پر قابو پانے کی نئی ایرانی حکمت عملی پر امریکی حیران

 

بعض ایرانیوں نے سنسرشپ سے بچنے کے لیے ٹیلیگرام پراکسیز، مخصوص براؤزرز اور ایک محفوظ میسجنگ سروس جسے ڈیلٹا چیٹ کہا جاتا ہے جیسے مختلف آن لائن ذرائع استعمال کیے۔ حکام کے سخت مؤقف کے سبب بڑے خطرات کے ساتھ ایسی ایپس استعمال کی جا رہی ہیں۔

ایرانی حکومت نے’’وائٹ لسٹنگ‘‘کا طریقہ اپنایا ہے، جس کے تحت صرف پہلے سے منظور شدہ ویب سائٹس تک ہی رسائی دی جاتی ہے ایسی سائٹس عموماً ملک کے مذہبی حکمران کے حکام کی ملکیت یا ان کی منظور شدہ ہوتی ہیں۔حکام وائٹ لسٹنگ کے ذریعے مخصوص سماجی گروہوں کو بھی رسائی دے سکتے ہیں۔ یعنی ایک ویب سائٹ مردوں کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے لیکن خواتین کے لیے نہیں، سرکاری ملازمین کے لیے ہو سکتی ہے لیکن کاروباری افراد کے لیے نہیں، یا بزرگوں کے لیے ہو سکتی ہے لیکن نوجوانوں کے لیے نہیں۔
حکام کا خیال ہے کہ موجودہ احتجاج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت شٹ ڈاؤن کا متقاضی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔