جھاڑکھنڈ کا وحشی ہاتھی6 دن سے غائب۔لوگ چھتوں پر سونے لگے،پہرے دار ٹولیاں تشکیل

بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم کا خوں خوارہاتھی تاحال غائب ہے تاہم اس کے خوف نے ضلع کے کئی دیہات میں خوفزدہ رہائشیوں کو چھتوں پرسونے اورپختہ مکانات میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ماجھگاؤں بلاک کے تحت بینی ساگر گاؤں کی پوری کھرپوس پنچایت میں صرف تین کنکریٹ کے مکانات ہیں،جن میں دیہاتی غروب آفتاب کے بعد جمع ہو جاتے ہیں۔ حملوں سے بچنے کے لیے نائٹ واچ گروپ تشکیل دیئے جا رہے ہیں۔حکام نے بتایا کہ دو ہفتوں کے دوران گوئلکیرا اور کولہان کے جنگلاتی حدود میں ہاتھی نے 20 جانیں لیں جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

بینی ساگر میں ہی 9 جنوری کو خون آشام ہاتھی نے آخری شکار کیا تھا۔ محکمہ جنگلات کے مطابق 9 جنوری سے اس جانور کو نہیں دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ ممکن ہے ہاتھی پرچھائی ہوئی مستی کی مدت ختم ہو گئی ہو۔

میڈیارپورٹس میں یہ بھی  بتایا گیاہے کہ اس ہاتھی کا صرف ایک دانت ہے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں باربیریا گاؤں کا 13 سالہ جے پال سنگھ میرل ہے، جو اس ماہ کے شروع میں حملے سےزندہ بچ جانے والا واحد انسان ہے، اس حملے میں ہاتھی نے اس کے تقریباً پورے خاندان کا صفایا کر دیا تھا۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ سانحے کے بعد سے ساتویں جماعت کا طالب علم صدمے میں ہے اس نے کھانا، بولنا یا اسکول جانا چھوڑ دیا ہے۔جے پال نے 6 جنوری کی رات اپنے والد، ماں ، چھوٹی بہن اور چھوٹے بھائی کو کھو دیا، جب ہاتھی نے انہیں روند ڈالا۔ اس کی چھوٹی بہن سشیلا کی ٹانگ میں فریکچر ہوا ہے جس کا نوامونڈی اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

باربیریا پنچایت، جہاں پانچ افراد ہلاک ہوئے، گاؤں والوں نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ مقامی ’مکھیا‘ کے بھائی، روپ سنگھ لگوری نے کہا کہ رات کو نگرانی کرنے والے گروپ بنائے گئے ہیں۔تقریباً 25 نوجوان مشعلوں، پٹاخوں او ر ٹوٹ (ایک روایتی ڈرم) کے ساتھ گاؤں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اگر ہاتھی نظر آئے، تو وہ سب کو خبردار کریں گے اور اسے بھگانے کی کوشش کریں گے۔

مزید پڑھیں:بھارتی ریاست جھاڑکھنڈمیں20انسان مارنے والاخونی ہاتھی کہاں گیا؟

 

محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے جھاڑکھنڈ اور اڈیشہ بھر میں مشترکہ ٹیموں کو تعینات کرنے کے ساتھ، بدمست ہاتھی کو تلاش کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔اس دوران مغربی بنگال، بنکورا سے لائی گئی ماہرین کی ایک ٹیم کا رکن بھی ہاتھی کے غضب کا نشانہ بن کرشدید زخمی ہونے کے بعدہسپتال میں دم توڑ گیاتھا۔

نومونڈی ، کوٹ گڑھ کے فاریسٹ کانسٹیبل جیشری سمبروئی نے کہا کہ تھرمل ڈرون بھی اب تک اس جانور کو تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ماہرین انسان اور ہاتھی کے بڑھتے ہوئے تنازع کو جانوروں کے مسکن کوپہنچنے والے نقصان سے جوڑتے ہیں،کان کنی، ترقیاتی کاموں اور جنگلات کی تباہی نے ہاتھیوں کو انسانی بستیوں میں دھکیل دیا ہے۔ خوراک کی کمی، خاص طور پر بانس، انہیں کھیتوں اور آبادیوں پر حملہ آورہونے کے لیے مجبور کر دیتی ہے۔ ان کا کہناہے کہ اگر بنیادی وجوہات پر توجہ نہ دی گئی تو سنگین نتائج ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔