مستحکم ایران خطےکے مفاد میں ہے۔ پاکستان کا سلامتی کونسل میں بیان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ایران اور خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارتکاری اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیاہے۔ایران کی صورتحال پر سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ ہم ایران اور خطےکی صورت حال کا قریبی جائزہ لے رہے ہیں۔ تمام تنازعات کے پرامن حل پریقین رکھتے ہیں۔

سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب نے بیرونی مداخلت کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ تمام تنازعات پُر امن طریقے اور عالمی قانون کے مطابق حل ہونےچاہییں۔ مستحکم ایران پاکستان اور خطےکے مفاد میں ہے۔ عاصم افتخار نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ایران کی صورتحال جلد نارمل ہوگی اور بیرونی دباو، اندرونی ہنگامہ آرائی بھی ختم ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسائل کے حل کے لیے پاکستان سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں امریکا، روس اور پاکستان کے مستقل مندوبین نے اپنے اپنے مؤقف کا کھل کر اظہار کیا۔اس دوران ایران کے اندرونی حالات، انسانی حقوق، علاقائی سلامتی اور ممکنہ کشیدگی پر تفصیلی بحث کی گئی۔یہ اجلاس امریکہ کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

امریکی مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا ایران کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں سر نہ ڈھانپنے پر ایک خاتون کو قتل کیے جانے کا واقعہ تشدد اور جبر کی واضح مثال ہے، جس کے بین الاقوامی امن و سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔امریکی مندوب کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمل پر یقین رکھتے ہیں، محض بیانات پر نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی فنڈنگ کی، ایرانی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے جبر کا سہارا لے رہی ہے۔امریکی مندوب نے مزید کہا کہ لاکھوں ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، ایران بظاہر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتا ہے مگر اس کا طرزِ عمل مذاکرات کے برعکس ہے اور دنیا جانتی ہے کہ آج ایرانی رجیم کمزور ترین حالت میں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔