اسرائیلی فورسز نے اقوام متحدہ کی فوج پر بھی حملے کیے، فائل فوٹو
 اسرائیلی فورسز نے اقوام متحدہ کی فوج پر بھی حملے کیے، فائل فوٹو

غزہ کی جنگ نے اسرائیلی فوجیوں کو ذہنی مریض بنادیا۔خودکشیوں اوردماغی امراض میں اضافہ

 

اسرائیلی فوجی پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) اور خودکشی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافے جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ صورت حال 7 اکتوبر 2023 کو  حماس کے حملے کے بعد پیدا ہوئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت دفاع اور صحت کے اداروں کی حالیہ رپورٹس میں فوج کو درپیش ذہنی صحت کے سنگین بحران کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔اسرائیلی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ نے ان فوجیوں کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالا ہے جو اسرائیل کے اعلان کردہ جنگی مقاصد،غزہ میں حماس کا خاتمہ، یرغمالیوں کی بازیابی اور حزب اللہ کو غیرمسلح کرنا، کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔

وہ فوجی بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جن کے اڈوں پر 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے دوران حملہ کیا گیا تھا۔

اسرائیل کی وزارتِ دفاع کے مطابق ستمبر 2023 کے بعد فوجیوں میں پی ٹی ایس ڈی کے کیسز میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور اندازہ ہے کہ 2028 تک یہ تعداد 180 فیصد تک بڑھ جائے گی۔وزارت کے مطابق زخموں کے علاج کے لیے زیرِعلاج 22 ہزار300 فوجیوں اور اہلکاروں میں سے 60 فیصد پوسٹ ٹراما کا شکار ہیں۔
وزارت نے ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور بجٹ میں اضافہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ متبادل علاج کے استعمال میں بھی تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ملک کے دوسرے سب سے بڑے صحت کے ادارے مکابی نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ اس کے زیرِعلاج اسرائیلی فوجی اہلکاروں میں سے 39 فیصد نے ذہنی صحت کے لیے مدد طلب کی، 26 فیصد نے ڈپریشن سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

غزہ اور لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ میں 71 ہزار سے زائد فلسطینیوں اور جنوبی لبنان میں 4400 افراد کو ہلاک کیا ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے اس کے 1100 سے زیادہ فوجی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔