فائل فوٹو
فائل فوٹو

گل پلازہ میں آتشزدگی کی تحقیقات کیلیےسندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر

کراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع شاپنگ مال گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی انکوائری کےلیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

سانحہ گل پلازہ سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں درخواست سلیم مائیکل ایڈووکیٹ و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گل پلازہ کراچی کا مصروف کمرشل سینٹر ہے، سانحے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

دائر درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سانحے کے ذمے داروں کا تعین کرکے کارروائی کا حکم دیا جائے کیوں کہ سانحہ اداروں کی نااہلی کا واضع ثبوت ہے۔

درخواست میں حکومت کو نقصان کا تخمینہ لگاکر ازالہ کرنے کا اور متاثرین کو معاوضہ دینے کا بھی حکم دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

درخواست گزاروں نے عدالت عالیہ سے دکانداروں کے ہونےوالے نقصان کے ازالے کا بھی حکم دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

دوسری جانب  بلڈنگ میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے،سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی جانب سے تاجروں، بلڈنگ کمیٹی اور متعلقہ حکام پر غفلت کا الزام لگایا گیا ہے۔

کراچی بار کا سانحہ گل پلازہ متاثرین کی مفت قانونی معاونت فراہمی کا اعلان

کراچی بار کا کہنا ہے کہ کراچی بار گل پلازہ میں پیش آئے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی بار کا کہنا تھا کہ گل پلازہ محض ایک تجارتی عمارت نہیں تھا بلکہ کراچی کی معاشی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ تھا۔ گل پلازہ دہائیوں سے ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ روزگار رہا۔

بار نے کہا کہ اس سانحے میں جاں بحق افراد کی درست تعداد شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے تاہم تباہی کا حجم نا قابل تردید ہے۔ تقریبا 1200 دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور 20 سے 25 ملین امریکی ڈالر مالیت کا سامان جل کر راکھ ہو گیا۔

بار نے بتایا کہ مجموعی نقصان تقریبا 100 ملین امریکی ڈالر کے قریب ہے۔  اصل المیہ انسانی جانوں کا نقصان، روز گار کا خاتمہ اور خاندانوں کا بے چینی اور کرب میں مبتلا ہونا ہے۔

بار نے کہا کہ  یہ سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ مسلسل غفلت، کمزور طرز حکمرانی اور انسانی جانوں سے لاپرواہی کا منطقی نتیجہ ہے۔ کراچی بار لواحقین اور تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ سانحہ سے متعلق تمام قانونی کارروائیاں بلا معاوضہ سر انجام دی جائیں گی۔

بار کا کہنا تھا کہ سینئر وکلا اور قانونی ماہرین پر مشتمل پروبونو لیگل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی تمام متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کرے گی۔

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔