تین امریکی کارڈینلز نے وینزویلا، یوکرین اور گرین لینڈ میں حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے صدرٹرمپ سے امریکہ کے لیے حقیقی اخلاقی خارجہ پالیسی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک نادر مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
مذہبی پیشوائوں کا کہناہے کہ ادنیٰ قومی مفادات کے لیے جنگ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرناچاہیے اور فوجی کارروائی کو انتہائی حالات میں آخری حربے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق،اس بیان پر واشنگٹن ڈی سی کے کارڈینلز رابرٹ میک ایلروئے، شکاگو کے بلیس کپچ اور نیوارک کے جوزف ٹوبن نے دستخط کیے ہیں۔تینوں کارڈینلز نے ویٹیکن میں پوپ کے حالیہ خطاب کا حوالہ دیا،جس میں انہوں نے متنبہ کیا کہ کس طرح جنگ کا جنون پھیل رہا ہے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد طے کیے گئے اصول جن میں اقوام کوایک دوسرے کی سرحدویں پامال کرنے سے منع کیا گیا تھا، کو مکمل طور پر مجروح کیا جارہا ہے۔
پادریوں نے کہا ہے کہ یہ امریکہ کے اخلاقی کردارکی آزمائش ہے، جب امن قائم کرنے کی کوششوں کو محدود کیا جا رہا ہے جو پولرائزیشن اور تباہ کن پالیسیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔دریں اثنا، امریکی آرچ بشپ نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ گرین لینڈ کے خلاف امریکی کارروائی کے لیے فوج کو ایسی صورت حال میں ڈالا جا سکتا ہے جہاں انہیں کچھ ایسا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہو جو اخلاقی طور پر قابل اعتراض ہے۔آرچ بشپ ٹموتھی بروگلیو نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگومیں کہا تھاکہ گرین لینڈ میں امریکی کارروائی ایک منصفانہ جنگ نہیں ہو سکتی ، کیوں کہ ڈنمارک ایک اتحادی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos