اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں پیکا قانون میں ترمیم کا بل زیر غور آیا۔
انوشہ رحمان نے کہا کہ میرے پیش کیے گئے بل کے حق میں این سی سی آئی اے بھی ہے، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی درخواست پر قابل اعتراض مواد کو نہیں ہٹاتے تو کیا ہو گا؟
ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تعاون کے لیے درخواست کر چکے ہیں۔
انوشہ رحمان نے کہا کہ میں ساری زندگی یہی سنتی آئی ہوں، ایک طریقہ کار ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیسے قابل اعتراض مواد ہٹائے گا، پہلے سروس پرووائیڈرز کہتے تھے جب تک قانونی طور پر جرم ثابت نہ مواد نہیں ہٹائیں گے۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی کون سی وزارت کو کرنا ہوتی ہے؟ انوشے رحمان نے کہا کہ یہ آئی ٹی منسٹری کا کام ہے، قانون تو آپ کے پاس ہے اس وقت۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ہم خود سوشل میڈیا متاثرین میں سے ہیں، پوری دنیا ہمارے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے کہ ہم آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد کر رہے ہیں، دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سروس پرووائیڈرز کو پابند کیا جائے، آپ بھی آئی ٹی وزیر رہی ہیں آپ کو پتا ہے یہ کون کرتا ہے۔
بعدازاں سینیٹ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos