یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روس کے شدید حملوں کے بعد شہر کا تقریباً نصف حصہ بجلی، پانی اور حرارت سے محروم ہو گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید سردی میں ہزاروں رہائشی عمارتیں اور پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتیں متاثر ہوئیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس نے سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کیف کے قریب ایک 50 سالہ شخص ہلاک ہو گیا۔ شہر کے میئر ویتالی کلیچکو کے مطابق رواں ماہ روس کے شدید ترین حملوں کے باعث پانچ لاکھ سے زائد افراد دارالحکومت چھوڑ چکے ہیں۔
حملے کے دوران شہر بھر میں سائرن بجتے رہے اور یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی۔ شہریوں کی مدد کے لیے کیف انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں خیمے نصب کیے ہیں، جہاں لوگ خود کو گرم رکھ سکتے ہیں، موبائل فون چارج کر سکتے ہیں، گرم مشروبات حاصل کر سکتے ہیں اور نفسیاتی مدد لے سکتے ہیں۔
یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس خواتین، بچوں اور بزرگوں کے خلاف جنگی جرائم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کم از کم سات علاقوں میں توانائی کا انفراسٹرکچر نشانہ بنایا گیا، اور اتحادی ممالک سے فضائی دفاع مضبوط کرنے کی اپیل کی گئی۔
صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین ایک مکمل جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور عالمی توجہ میں کمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امریکا اور یورپ کے درمیان سفارتی ہم آہنگی پر زور دیا اور عندیہ دیا کہ حالیہ حملوں کی صورت میں وہ ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت نہ بھی کریں، تاہم امریکا کے ساتھ جنگ کے بعد کے معاہدوں پر پیش رفت کی صورت میں شرکت ممکن ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos