اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں طالبان کا قبضہ ہے اور زندہ رہنے کیلیے بھتہ دینا ضروری ہے۔
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ تمام سرکاری افسران انہیں بھتہ دیتے ہیں، ہم یہاں جو بجٹ پاس کرتے ہیں ان کا 10 فیصد حصہ رکھ کر پاس کرتے ہیں۔ہم نے کئی سیاہ دن دیکھے ہیں، 8 فروری یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے، پاکستان کے ساتھ بہت ظلم کیے گئے ہیں مگر 8 فروری کو انتہا کر دی گئی۔ہمیں ان قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، 27 ویں ترمیم میں جو استثنیٰ دی گئی ہیں وہ واپس کرنا ہوں گی، ہمارا گھر اور بچے بھی علاقے میں محفوظ نہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، کبھی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفاد کی خاطر نہیں بنائی، بانی پاکستان نے اسرائیل کے قیام سے متعلق دو تاریخی اقدامات کیے، 1940 کی قرارداد تاسیس پاکستان کی قرارداد کے تحت ہے، 1948 میں جب اسرائیل وجود میں آیا تو اسے بانی پاکستان نے ناجائز قرار دیا۔ہم نے کبھی سوچا ہے کہ بانی پاکستان کے فرمودات پر؟ ان پر عمل پیرا دور کی بات ہے، یہ ایوان منتخب ایوان نہیں مگر پھر بھی کبھی اس ایوان کو اعتماد میں لیا؟حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے، چلیں مت لیں مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ جب شملہ معاہدہ بھٹو کرنے جارہے تھے تو بھرے ایوان کو اعتماد میں لیا گیا، مشاورت اور مفاہمت کی روش اپنائیں تو بہت سارے الجھے مسائل سے نکل سکتے ہیں۔محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، محمود اچکزئی ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے ہیں، جو امور محمود اچکزئی نے بتائےغور کریں تو خوشحال مستقبل دکھا سکتے ہیں۔ مسائل بہت ہیں کہاں سے آغاز کیا جائے یہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos