کراچی:ایم جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے چھٹے روزہ بھی ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری رہا، اس دوران مزید باقیات برآمد کرلی گئیں اور جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے،77ابھی لا پتہ ہیں۔
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی سے جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے اورلاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاشوں اور جسم کے مختلف اعضا سے 45 ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، 8 افراد کی شناخت ڈی این اے سے مکمل ہوگئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ 6 لاشیں مکمل تھیں اور ایک کو شناختی کارڈ سے شناخت کیا گیا۔اس سے قبل ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں تلاش کا عمل کا جاری ہے جو ایسوسی ایشن کی مدد سے کی جا رہی ہے اور کہا گیا کہ تلاش کا عمل جلد مکمل کرلیا جائے گا۔
حکام نے بتایا تھا کہ مزید دو افراد کی باقیات ملنے کے بعد سانحے میں جاں بحق کی تعداد 62 ہوگئی ہے تاہم مزید تلاش ابھی جاری ہے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی آگ صرف شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، مکمل تحقیقات ہوں گی، تقریباً 67 افراد جاں بحق ہوئے، 77 افراد لاپتا ہیں۔
جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ عمارت میں ریسکیو اہلکاروں کو بھیج رہے ہیں ، مشینری کو اس لیے روک رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے، عمارت کی حالت بہت خراب ہے کسی بھی وقت گرسکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا، اتنی بڑی آگ ہے، صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے مکمل تحقیقات ہوں گی۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ کونسے دروازے بند تھے کون سے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی، تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک تقریباً 67 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں، لاپتہ افراد کی فہرست میں 77 افراد کے ناموں کا اندراج کرایا گیا ہے، اب پلازے کا وہ حصہ رہ گیا جو دونوں طرف سے گرا ہوا ہے، دروازوں کے بارے میں کل گواہان سے بیانات لے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 14 افراد کی شناخت ہوچکی ہے۔جس میں ڈی این اے سے 8 افراد کی شناخت ہوئی یے، 48 افراد کا پوسٹ مارٹم ہوچکا یے، 86 افراد افراد لاپتہ ہیں، ملبہ کے نیچے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری یے، جن عمارتوں میں فائر کے انتظامات نہیں ہیں ان کو نوٹس جاری کررہے ہیں، چھ عمارتوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا، مسجد سے باہر جانے کے دو راستے بھی کھلے ہوئے تھے، بجلی بند نہ کرتے تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے۔
ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ بتایا کہ گل پلازہ میں ریسکیو 1122 کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا، فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت مسمار کر دیا جائے گا۔
جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ عمارت کومسمار کرنے کی ذمہ داری ایس بی سی اے کی ہوگی، ایس بی سی اے کی رپورٹ میں عمارت کو خطرناک اور ناقابل استعمال قرار دیا تھا۔
قبل ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا اور ٹینینکل کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا اور سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریش کے بعد منہدم کیا جائے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارتی نے بتایا کہ گل پلازہ 8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل ہے، گل پلازہ میں ہفتے کی شب آگ لگنے کے بعد پورا پلازہ جل گیا تھا، گل پلازہ سے متصل پلازوں کا بھی معائنہ کیا گیا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos