بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع اندور میں آلودہ اور زہریلے پانی کے استعمال سے سنگین انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زہریلا پانی پینے کے باعث اب تک 25 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ مہو کے علاقے میں 24 سے زائد افراد یرقان میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ متاثرہ افراد میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اندور کے مختلف علاقوں میں نلکوں سے کیچڑ ملا، بدبودار اور مضرِ صحت پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہی پانی استعمال کرنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہوئے، جس کے باعث کئی بچے اسکول جانے اور امتحانات میں شرکت سے محروم رہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شہر کے متعدد علاقوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک اختیار کر چکی ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق بعض مقامات پر پانی کی پائپ لائنیں سیوریج لائنوں اور گندی نالیوں کے قریب سے گزرتی ہیں، جس کی وجہ سے پینے کا پانی آلودہ ہو رہا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ حکام کو گندے پانی کی شکایات درج کروائیں، تاہم تاحال انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos