سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کبھی فلسطینی عوام کی امنگوں کے خلاف نہیں جائے گا۔ اس وقت غزہ میں خونریزی کو روکنا ہماری اور دوست مسلمان ممالک کی اولین کوشش ہے۔کسی بھی فورس کی تشکیل، مینڈیٹ اور تعیناتی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، امن بورڈ کا قیام غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے ہے، افواج کی بیرون ملک تعیناتی کا فیصلہ حکومت کا استحقاق ہے ، پاکستان کی افواج حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ دار نہیں ہوں گی۔ حماس کو غیر مسلح کرنے میں شرکت ہماری ریڈ لائن ہے۔پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر آج بھی قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا ۔
سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور وی لاگرزکی ایک اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار سے نشست میں شرکاء کے ساتھ اہم سلامتی معاملات پر کھل کر بات چیت کی گئی ۔ حکام نے شرکاء کے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔ بات چیت کے اختتام پر شرکاء نے سیکورٹی حکام کی بریفنگ کو سراہا۔بریفنگ کے مطابق غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ 8 بڑےاسلامی ممالک سے مشاورت اور مکمل سوچ بچار کے بعد کیا،فلسطینیوں کی نسل کشی سے اسرائیل کو صرف امریکا ہی روکنے کی پوزیشن میں ہے۔ غزہ میں خون ریزی کو سیاسی عمل اور بات چیت سے ہی روکا جاسکتا ہے۔
سیکیورٹی عہدے دار نے کہا کہ معرکۂ حق سے متعلق تمام فیصلے وزیراعظم کی سربراہی میں حکومت وقت نے کیے تھے۔ افوج پاکستان نے معرکۂ حق میں اپنی پیشہ ورانہ رائے دی،ہمارے سیاستدانوں اور سفارتکاروں نے معرکۂ حق کے بعد بہترین سفارتکاری کی۔ سیاستدانوں کی ملک کیلئے گراں قدر خدمات ہیں۔پاکستان جمہوریت سے ہی آگے بڑھے گا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جمہوری اقدار کے فروغ پر یقین رکھتے ہیں۔ کسی صوبائی حکومت کو سیکورٹی بریفنگ کیلئے وفاق کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ سیاست، مالی فائدے یا مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہاہےکہ پاکستان ہر حال میں اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا،پاکستان کا مفاد سب کیلئے مقدم ہے اور ہمارے تمام قومی فیصلوں کا محور پاکستان اور پاکستانی عوام کا مفاد ہے۔ فوج اور قوم کے درمیان کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا، نہ کسی کو اس کی اجازت دی جائے گی۔ یہ رشتہ بہت گہرا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت قابلِ احترام ہیں تاہم کوئی بھی اپنی ذات کو پاکستان سے بالاتر نہ سمجھے۔ ذرائع کا مزید کہناتھاکہ موجودہ سیاسی قیادت قابل احترام ہے جس نے وقت کے تقاضوں کے مطابق مشکل لیکن بروقت اور دلیر فیصلے کیے۔ قیاس آرائیوں کے تدارک اور حقائق کی ترویج کیلئے روابط ضروری ہیں، ہمیں کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں۔نوجوانوں کو مثبت سمت میں گامزن کرنے کیلئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔پاکستان ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں کثیر الجہتی طریقہ اپناتا رہا ہے، پاکستان چین تعلقات مضبوط اور اسٹریٹجک ہیں اور باہمی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مزید مستحکم ہو رہے ہیں، بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کرانے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لاتا رہے گا- کشمیر بنے گا پاکستان، ہمارا قومی عزم ہے۔۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ قومی ایکشن پلان ایک متفقہ دستاویز ہے جس کی توثیق تمام سیاسی جماعتوں نے کی۔ دہشت گردی کے مکمل تدارک کیلئے اس پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔ انسدادِ دہشت گردی کیلئے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے شب وروز قربانیاں دے رہے ہیں۔ مکمل کامیابی کا حصول تمام سٹیک ہولڈرز کی یکسوئی کے ساتھ کردار ادا کرنے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو خلوص نیت سے کام کرنا ہو گا، بلوچستان سیاسی سرپرستی میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، گورننس، روزگار کے مواقع کی فراہمی، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور اداروں کی استعداد کار میں اضافے سے سیکورٹی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ فغانستان کی طرف سے جارحیت کے مؤثر جواب کے بعد دہشتگردی کے سرحد پار سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos