خیبرپختونخوا ،شمالی علاقہ جات اور آزادکشمیر میں مسلسل برف باری نے متعدد علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع کردیا۔ درخت،کھمبے گرنے،لینڈسلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے سے سڑکیں بند ہوگئیں۔وادی نیلم کے مختلف مقامات پر مکانات گرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔کئی علاقوں میں برف باری کے باعث گھنٹوں پھنسے رہنے کے بعد سیاحوں کو ریسکیو کیا جارہاہے۔
وادی نیلم میں شدید برفباری سےبجلی کی ترسیل اور ٹیلی مواصلات متاثرہیں۔وادی میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف مقامات پر برفانی تودے گرنے سے رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس کے باعث آمد و رفت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں دشواری کا سامنا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق برفباری کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو گئے ہیں۔
وادی نیلم میں شدید برف باری اور لینڈسلائیڈنگ سے 3 مکانات گر گئے۔ اہم شاہراہیں بند ہوگئیں، بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا، متعدد علاقوں میں پولز گرے ہیں۔
شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے 4سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیا۔چلاس اور اپرکوہستان میں شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند کردی گئی جس کے باعث سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔استورسے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، راما میڈوز دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں 5 سے 6 فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ وادی کاغان میں برف باری سے رابطہ سڑکیں بند ہونے کے بعد سیاحوں کا داخلہ بند کرکے انہیں بالا کوٹ میں روک لیا گیا، دیربالا،کمراٹ، لواری ٹنل، باجوڑ میں بھی برف باری سے راستے بند ہیں۔
ہنزہ اور نگر میں برفباری سے رابطہ سڑک بند ہے۔
آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں گزشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ضلع حویلی کی حدود میں ایمبولینس سمیت 25 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں۔ پاک فوج نے 32 مسافروں کو ریسکیو کرلیا گاڑیوں میں 100کے قریب افراد سوار تھے ۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos