نئی امریکی فوجی حکمت عملی میں چین کی جگہ داخلی خطرے ترجیح قرار۔ اتحادیوں سے تعاون محدود

 

امریکی وزارت دفاع نے نئی عسکری حکمت عملی جاری کی ہے۔پینٹاگون کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج اپنے وطن کی حفاظت اور چین کی طرف سے خطرہ دور کرنے کو ترجیح دے گی ،اس دوران یورپ اور دیگر جگہوں پر اتحادیوں کو محدود ترمدد فراہم کرے گی۔

اس سال کی قومی دفاعی حکمت عملی (این ڈی ایس) پینٹاگون کی ماضی کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے جس میں اتحادیوں پر زیادہ بوجھ ڈالا جائے اور واشنگٹن کی حمایت اور معاونت کم ہو اور ساتھ ہی روایتی دشمنوں چین اور روس کے لیے نرم لہجے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

فوجی حکمتِ عملی میں کہا گیا ہے کہ چونکہ امریکی افواج کی توجہ دفاعِ وطن اور ہند-بحرالکاہل پر مرکوز ہے تو ہمارے اتحادی اور شراکت دار دیگر جگہوں پر اپنے دفاع کی بنیادی ذمہ داری خود اٹھائیں گے اور امریکی افواج کی حمایت اہم لیکن محدود تر ہو گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیشرو جو بائیڈن کے دور میں جاری کردہ سابقہ این ڈی ایس میں چین کو واشنگٹن کا اہم ترین چیلنج قرار دیا گیا اور کہا کہ روس سے شدید خطرہ لاحق تھا۔تاہم نئی دستاویز میں بیجنگ کے ساتھ باعزت تعلقات پر زور دیا گیا ہے اورچین کے بجائے داخلی خطرات کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے- امریکی اتحادی تائیوان کا کوئی ذکر نہیںجس پر چین ملکیت کا دعویدار ہے ۔روس کی طرف سے خطرے کو مسلسل لیکن قابلِ بندوبست قرار دیا گیا ہے جو نیٹو کے مشرقی اراکین کو متأثر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کی نیٹو پر پھبتی۔کیا یورپ اور امریکہ کے راستے جداہوچکے ہیں؟

بائیڈن اور ٹرمپ دونوں کی حکمتِ عملی وطن کے دفاع پر زور دیتی ہے لیکن امریکہ کو درپیش خطرات کے بارے میں ان کی وضاحتیں نمایاں طور پر مختلف ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی این ڈی ایس نے سرحدی سلامتی کو نظر انداز کرنے پر بائیڈن انتظامیہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے غیر قانونی غیر ملکیوں کا سیلاب اُمڈ آیا اور وسیع پیمانے پر منشیات کی سمگلنگ شروع ہو گئی۔سرحد کی سلامتی قومی سلامتی ہے اور پینٹاگون اسی لیے سرحدیں بند کرنے، مختلف صورتوں میں حملے پسپا کرنے اور غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی کوششوں کو ترجیح دے گا۔

این ڈی ایس 2026 میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا بھی کوئی ذکر شامل نہیں جس کی بائیڈن انتظامیہ نے ابھرتے ہوئے خطرےکے طور پر نشان دہی کی تھی۔
ٹرمپ کی گذشتہ ماہ جاری کردہ قومی سلامتی حکمتِ عملی کی طرح این ڈی ایس نے لاطینی امریکہ کو امریکی ایجنڈے میں سرِفہرست رکھا ہے۔
این ڈی ایس نے کہا کہ پینٹاگون مغربی نصف کرہ میں امریکی فوجی بالادستی بحال کرے گا۔ ہم اسے اپنے وطن کی حفاظت اور پورے خطے میں کلیدی علاقوں تک رسائی کے لیے استعمال کریں گے۔
اسٹریٹجک دفاعی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایران حالیہ ناکامیوں کے باوجود اپنی عسکری قوت کی ازسرنو تعمیر کے لیے پُرعزم ہے۔ دستاویز کے مطابق ایرانی قیادت مذاکرات سے انکار کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے اتحادی گروہ اپنی انفرااسٹرکچر کی بحالی کی کوشش کریں گے اور ایسے علاقائی بحران بھڑکا سکتے ہیں جو خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالیں گے اور امن کو کمزور کریں گے۔ پینٹاگان کے مطابق ایرانی نظام دہائیوں کے مقابلے میں اس وقت کہیں زیادہ کمزور اور خطرات کی زد میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔