فائل فوٹو
فائل فوٹو

پہاڑوں کے پیچھے جانے والا پہاڑوں میں ہی کھو گیا

یہ ایک نہایت دلدوز اور سبق آموز کہانی ہے۔یہ کہانی ہے مانسہرہ کے ایک پرجوش نوجوان عنائیت خان آف اوگی کی،یہ کہانی  ایک ایسے پاکستانی نوجوان کی  ہے جو شہرت  اور نوجوانوں کو متاثر کرنے کیلیے بلند  پہاڑوں  کی طرف نکل گیا۔
یوٹیوبر اور سوشل میڈیا وی لاگرعنایت خان آف اوگی مانسہرہ ،تورغر، کالا ڈھاکہ کے بلند اور برفانی پہاڑ مچئی سر کی طرف اکیلے روانہ ہوئے جس کا مقصد نوجوانوں کو متاثر کرنے والی ایک خطرناک ویڈیو بنانا تھا۔
عنایت خان اُن ویڈیوز کی وجہ سے مشہور تھے جن میں وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے برفانی پہاڑوں کو ایک “وائٹ ہیل” کی شکل میں دکھاتے تھے۔
انہوں نے برفانی طوفان میں بچ نکلنے کی ایک فلم کا پوسٹر تیار کیا تھا جس کا نام  white hell تھا۔
پوسٹر کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ آپ آج رسک لینے سے ڈرتے ہیں، تصور کریں کہ 2035 میں آپ ایک صبح اٹھیں اور سوچیں کہ آپ نے کوشش کیوں نہیں کی۔
وہ چاہتے تھے کہ ان کی ویڈیو کسی بڑی انرجی ڈرنک کمپنی کی نظر میں آ جائے تاکہ اسپانسرشپ مل سکے اور کچھ مالی مدد ہو جائے لیکن پہاڑ غلطی معاف نہیں کرتے ایک برفانی تودہ گرا اور عنایت خان اس کی زد میں آ گئے۔
زندگی کے آخری لمحوں میں انہوں نے فیس بک پر اپنے ناظرین کو بتایا کہ وہ برفانی تودے میں پھنس چکے ہیں یہ وہ لمحہ تھا جہاں اسکرین کے اس پار لوگ دیکھ رہے تھے اور پہاڑ خاموش تھے۔ عنایت خان کی ویڈیوز نے لاکھوں کو متاثر کیا لیکن یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر بن گیا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا کی اس دوڑ کا وہ تاریک پہلو ہے جہاں شہرت اور خوابوں کی تکمیل کی جستجو بسا اوقات زندگی کی حدوں سے تجاوز کر جاتی ہے۔
 یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایڈونچر اور خطرناک مہم جوئی میں حفاظتی تدابیر کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پہاڑوں کی خوبصورتی کے پیچھے چھپے خطرات سے نمٹنے کے لیے صرف جذبہ کافی نہیں، بلکہ مکمل تربیت اور احتیاط ضروری ہے۔ زندگی اللہ کی امانت ہے، اور اسے چند ویوز یا لائکس کی خاطر خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ عنایت خان  کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔