کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے وفاقی وزرا، اراکین اسمبلی اور اہم رہنماؤں کی سیکیورٹی سندھ حکومت کی جانب سے اچانک واپس لے لی گئی۔
سانحہ گل پلازہ اور پیپلزپارٹی پر تنقید کرنا ایم کیو ایم رہنماؤں کو بھاری پڑگیا، پیپلزپارٹی ناراض ہوگئی، ایم کیو ایم رہنماؤں اور وزرا سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار،، انیس قائم خانی کی سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی بھی سیکیورٹی واپس لے گئی۔ ایم کیو ایم اراکین اسمبلی اور سینئر رہنماؤں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے آج شام 4بجے اہم پریس کانفرنس طلب کرلی ہے جس میں توقع ہے کہ بڑے اعلانات اور حمکت عملی وضع کی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں نے سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کے خلاف سخت ترین بیانات دیئے تھے۔ وزارت داخلہ سندھ نے فوری سیکیورٹی اہلکاروں کو واپس آنے کی ہدایت کردی ہے۔
سانحہ گل پلازہ پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سندھ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سیاست کرنی ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں، مگر پہلے 88 لاشوں کا جواب دیا جائے، کئی متاثرین کی لاشیں تاحال نہیں مل رہیں اور باقیات کا بھی کوئی سراغ نہیں۔
گورنر سندھ نے سوال اٹھایا کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی، عمارت میں داخل کیوں نہیں ہوا گیا اور دروازے توڑنے والے کہاں تھے۔
انہوں نے کہا کہ 47 سال پرانی لیز نکال لی گئی مگر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی، ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں بلکہ اربابِ اختیار اپنے کرتوتوں پر نظر ڈالیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos