لاہور: پاکستان کے بالائی علاقوں میں برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سے ہر جگہ سفید چادر بچھ گئی اور معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔ وادی نیلم میں 6 فٹ سے زائد برف پڑنے سے 5 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں سنو فال سے سیاحوں کو لطف آیا۔
مری میں برفباری کے باعث مال روڈ، جھیکا گلی اور نتھیا گلی سیاحوں کے لیے بند کر دی گئی، صرف بکنگ والے سیاح اجازت یافتہ ہیں۔ کوئٹہ، قلات، مستونگ، کان مہترزئی، مسلم باغ، چمن اور وادی نیلم کے مختلف علاقوں میں بھی شدید برفباری ہوئی۔
برفباری کی وجہ سے متعدد رابطہ شاہراہیں بند ہو گئیں، گریس ویلی اور شونٹر ویلی کی سڑکیں بھی متاثر ہوئیں، نانگا پربت اور بابوسر ٹاپ پر 10 فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ سے لیپہ اور نیلم ویلی میں 13 گھر مکمل تباہ اور 28 جزوی متاثر ہوئے، جبکہ باغ میں برفانی تودہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
چند شاہراہیں بحال کر دی گئیں، تاہم گلیات میں چار روز گزرنے کے باوجود بجلی اور رابطہ سڑکیں مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکیں۔ سڑکوں کی بندش کے باعث خوراک اور ادویات کی کمی پیدا ہوگئی، ناران، کاغان، کالام اور چترال میں بھی سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے۔
مالم جبہ، قلات اور راولا کوٹ میں منفی 5، لہہ میں منفی 12، زیارت میں منفی 8 اور استور، گوپس، پارا چنار میں منفی 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 7 اور کراچی میں 11 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
این ڈی ایم اے نے دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، شانگلہ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ کے شدید خطرے کی پیشگی وارننگ جاری کرتے ہوئے عوام سے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
اگر چاہیں تو میں اس خبر کے لیے 70 کریکٹر یا اس سے کم میں پرکشش سرخیاں بھی بنا دوں۔ کیا میں وہ بھی بنا دوں؟
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos