فائل فوٹو
ئل فوٹو

معروف سندھی شاعرآکاش انصاری قتل کیس، لے پالک بیٹے کو سزائے موت کا حکم

حیدر آباد: ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے آکاش انصاری  کے قتل میں ملوث ان کے لے پالک بیٹے کو سزائے موت کا حکم دے دیا۔

فرسٹ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ وفرسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ حیدرآباد کے جج تصور علی کی عدالت نے آکاش انصاری قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول شاعر اللہ بخش المعروف آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے شاہ لطیف انصاری کو مجرم قرار دیا اور آکاش انصاری کے قتل کے جرم میں مجرم کو سزائے موت سنا دی۔

فاضل عدالت نے مجرم کو دو لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کا حکم بھی دیا ہے۔ جرمانے کی رقم مقتول کے ورثا کو ادا کی جائے گی۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر مجرم کو مزید چھ ماہ قید بھگتنا پڑے گی۔

عدالت نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سولہ جنوری کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ بائیس صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم کو عدالتی فیصلے کے خلاف تیس دن کے اندر اندر اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کو سزا بھگتنے کیلئے واپس سینٹرل جیل حیدرآباد منتقل کر دیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے آکاش انصاری کو چھریوں کے پے درپے وار سے قتل کر کے شواہد مٹانے کیلئے لاش کو کمرے میں پیٹرول چھڑک کر جلا کر حادثاتی موت کا ڈرامہ رچایا جبکہ تمام ثبوت بھی مجرم کے خلاف ہیں۔

یاد رہے کہ مقتول سندھی شاعر وادیب ڈاکٹر آکاش انصاری کی قاسم آباد میں واقع ان کی رہائشگاہ سے گزشتہ سال 15 فروری 2024 کو سوختہ لاش ملی تھی۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر مقتول کے لے پالک بیٹے شاہ لطیف انصاری کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی تھی جو آئس کا نشہ کرتا تھا۔

دوران تفتیش لے پالک بیٹے نے آکاش انصاری کو بے دردی سے قتل کرکے لاش جلانے کا اعتراف کیا تھا۔ بعدازاں پولیس نے واقعے کا کیس مقتول کے رشتہ دار جان محمد انصاری کی فریاد پر مقتول کے لے پالک بیٹے کے خلاف 17 فروری کو درج کیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے وقت سندھی ادیب، دانشور، وکلا اور مقتول کی اہلیہ بھی احاطہ عدالت میں موجود تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔