کراچی: کلائمیٹ چینج پرفارمنس انڈیکس (CCPI) 2026 کی تازہ ترین رپورٹ نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حکومتی دعووں کی پول کھول دی ہے، جس پر پاکستان کی 15 ویں پوزیشن کو محض "اعداد و شمار کی شعبدہ گری” قرار دیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر نظر آنے والی یہ بہتری کسی ٹھوس حکومتی حکمت عملی یا کلائمیٹ ایکشن کا نتیجہ نہیں بلکہ سست رفتار صنعتی ترقی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث فی کس اخراج میں کمی کا شاخسانہ ہے۔ جرمن واچ، نیو کلائمیٹ انسٹی ٹیوٹ اور کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا فی کس کاربن اخراج 1.9 ٹن سالانہ ہے، جو عالمی اوسط کا ایک تہائی ہے، مگر یہ کارکردگی سے زیادہ آبادی کے دبائو، معاشی پسماندگی اور صنعتی پہیہ جام ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کی پیمائش کے آغاز سے اب تک پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم رہا ہے، جو اپنی جگہ جوں کا توں ہے، لیکن آبادی کے سیلاب نے کل اخراج کو تقسیم کر کے فی کس بنیادوں پر "بہتر رینکنگ” کا دھوکہ پیدا کر دیا ہے جس پر حکومت کی جانب سے بلا جواز واہ واہ کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے ہوش ربا حقائق بتاتے ہیں کہ قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) کے میدان میں پاکستان 54 ویں نمبر پر ہے جسے "انتہائی ناقص” (Very Low) ریٹنگ دی گئی ہے، جبکہ کلائمیٹ پالیسی پر عملدرآمد میں ملک 39 ویں نمبر پر ہے جو پالیسی سازی کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سرکاری دعووں کے برعکس 2025 میں ونڈ، سولر اور بیگاس کا مجموعی قومی توانائی میں حصہ محض 5 فیصد رہا۔
موسمیاتی ماہرین نے زمینی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں گرین ہاؤس گیسوں کو روکنے کا کوئی بڑا منصوبہ فعال نہیں اور 2022 کے سیلاب میں ہونے والا 30 ارب ڈالر کا نقصان اس بات کی تصدیق ہے کہ سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کے سرکاری منصوبے محض کاغذوں تک محدود ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی جنگ ایک "آئینی پھندے” کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں وفاق پالیسی تو بناتا ہے لیکن صوبوں کے پاس وسائل نہ ہونے کے باعث عملدرآمد صفر ہے، جس نے پاکستان کے موسمیاتی عزائم کو مفلوج کر دیا ہے۔
انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ کلائمیٹ رسک انڈیکس 2025 میں پاکستان اب بھی دنیا کے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے، مگر حکومتی ترجیحات عالمی اداروں سے "کلائمیٹ فنانسنگ” کے نام پر فنڈز بٹورنے تک محدود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان پر تعلیم اور سماجی بہبود کے فنڈز کو موسمیاتی مدوں میں منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ خود ترقی یافتہ ممالک اپنے مالی وعدے پورے کرنے سے گریزاں ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے اعداد و شمار کی جادوگری اور پیٹرو اسٹیٹس جیسی چالوں کے ذریعے نااہلی چھپانے کے بجائے سبز توانائی اور نیشنل ایڈاپٹیشن پلان پر حقیقی کام نہ کیا تو یہ ظاہری رینکنگ ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ 2025 میں خوردہ سطح پر شمسی توانائی میں معمولی اضافے کے باوجود مجموعی قومی ہدف حاصل نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے اور یہ صورتحال مستقبل میں پاکستان کے لیے عالمی سطح پر بڑی سبکی اور مزید ہولناک موسمیاتی آفات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos