ایبٹ آباد کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں اپینڈکس کے آپریشن کے بعد 13 سالہ بچہ جانبر نہ ہو سکا۔ واقعے نے شہر میں شدید تشویش اور غم و غصے کی فضا پیدا کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حسنین علی، جو تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، کو اپینڈکس کے شدید درد کے باعث ڈی ایچ کیو اسپتال ایبٹ آباد کے ایمرجنسی روم میں لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے ابتدائی معائنے کے بعد سرجری کا فیصلہ کیا اور اسی روز اپینڈکس کا آپریشن کیا گیا۔
لواحقین کے مطابق آپریشن کے بعد حسنین ہوش میں نہ آ سکا اور مسلسل دو دن تک بے ہوشی کی حالت میں رہا۔ بچے کی حالت تشویشناک ہونے کے باوجود بروقت مؤثر علاج فراہم نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں ہوش میں نہ آنے پر حسنین کو ایوب میڈیکل کمپلیکس ریفر کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
بچے کی موت کے بعد منگل کی شب لواحقین غم و غصے میں حسنین کی میت ڈی ایچ کیو اسپتال واپس لے آئے اور اسپتال ایمرجنسی کے سامنے رکھ کر احتجاج کیاتھا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ان کے اکلوتے بیٹے کی جان گئی ہے۔
لواحقین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کینٹ پولیس نے لواحقین کی درخواست پر ڈی ایچ کیو اسپتال کے متعلقہ ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کے مطابق مقدمہ ابتدائی اطلاع کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ، میڈیکل ریکارڈ اور علاج سے متعلق تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد لواحقین نے اپنا احتجاج ختم کر دیا تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو دوبارہ احتجاج کیا جائے گا۔
واقعے کے بعد شہری حلقوں کی جانب سے سرکاری اسپتالوں میں علاج کے نظام اور ڈاکٹرز کی نگرانی کے مؤثر نظام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos