لاہور میں داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے بعد خاتون کی نعش برآمد کر لی گئی ، بچی کی تلاش جاری ہے، ادھر صوبائی وزیر اطلاعات نے واقعہ جھوٹ قرار دے دیا۔
خاتون اور 10ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا دعویٰ خاتون کے شوہر نے کیا تھا -ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں 2 افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا گیا، اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں ۔
خاتون کے سیوریج لائن میں گرنے کے جس مقام کی نشان دہی کی گئی ہے تھی وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے۔
واقعے پر لاہور انتظامیہ کا موقف تھا کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔
دوسری جانب لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، اس بیان کے بعد پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا تھا- لیکن گرفتار شدگان کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔
خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے مل گئی۔
ڈی جی آپریشن فیصل کامران نے کہا ہے کہ واقعے کی انکوائری فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمت واقعہ رپورٹ ہوا اور 1122 کو کال آئی، اس کال کو دیکھ کر تمام تر واقعے کہ تحقیق کی گئیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق خاتون کی لاش ملنے کے بعد تمام ادارے اس وقت بچی کو ڈھونڈنے کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں، جس نے اس معاملے میں غفلت برتی تھی اس کی انکوائری کیلئے کمیٹی بنا دی گئی ہے، کچھ افسران کو نا اہلی کے باعث معطل کر دیا ہے، آؤٹ فال روڈ سے خاتون کی نعش ملی۔
فیصل کامران نے مزید بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتا چلا کہ یہ لوگ داتا دربار سے سلام کرکے نکلے تھے کہ حادثہ پیش آگیا، سیف سٹی نے تمام چیزیں نکال لی ہیں۔دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے داتا دربار کے سامنے ماں اور بچی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی خبر کو بے بنیاد قرار دے دیا۔انہوں نے بھاٹی گیٹ، پرندہ مارکیٹ کے قریب 24 سالہ سعدیہ نامی خاتون اور10 ماہ کی بیٹی رداکے مین ہول میں گرنے سے متعلق اطلاع کو جعلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہاکہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی فوری طور پر متحرک ہوئیں اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی خبر درست نہیں تھی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos