رکشہ رکوا کر بچی کے لیے کھلونے خریدے، اور واپس پلٹتے ہوئے ماں بیٹی کھلے نالے میں جا گریں

 

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کی کھدی ہوئی سیوریج لائنوں میں گرنے والی ماں بیٹی اپنے خاندان کے ساتھ شور کوٹ سے خاندان داتا دربار کی زیارت اور سیر و تفریح کی غرض سے لاہور آئی تھیں۔

حادثہ کیسے پیش آیا،اس بارے میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ماں بیٹی سیوریج کی منڈیر پر بیٹھی تھیں، جہاں سے دونوں اندر گر گئیں۔ایک ذریعے نے بتایا کہ 24 سالہ خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ داتا دربار میں حاضری دینے کے بعد واپس جا رہی تھیں۔اس دوران بھاٹی گیٹ کے قریب انہوں نے رکشہ رکوا کر 9 ماہ کی بچی کے لیے کھلونے خریدنے کا فیصلہ کیا۔ کھلونے لینے کے بعد جیسے ہی خاتون واپس پلٹیں، اندھیرے اور ناقص روشنی کے باعث وہ سڑک پر موجود کھلی سیوریج لائن کو نہ دیکھ سکیں اور اپنی بچی سمیت اندر جا گریں۔

 

عینی شاہدین کے مطابق جائے حادثہ پر موجود کھدی ہوئی سیوریج لائن پر نہ تو کوئی رکاوٹ موجود تھی اور نہ کسی قسم کا حفاظتی انتظام یا انتباہی نشان تھا۔

ادارے لاہور میں سیوریج لائن حادثہ 6 گھنٹے تک مشکوک قرار دیتے رہے۔خاتون کی نعش برآمد ہونے پر 3 افسران معطل۔ بچی کی تلاش جاری:مزید پڑھیں

رات گئے ریسکیو حکام کا کہنا تھاکہ سیوریج لائن میں پانی اور کیچڑ کی موجودگی کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں، تاہم سرچ لائٹس، رسیوں ، سیڑھیوں اور دیگر جدید آلات کی مدد سے بچی کی تلاش جاری ہے۔

 

پولیس اور متعلقہ محکموں کے اہلکار بھی موقع پر موجود ہیں ، جائے حادثہ کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ۔

واسا ترجمان کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ٹریفک انجینیئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی(ٹیپا) کے جاری ترقیاتی منصوبے کے دوران پیش آیا۔

واسا اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ منصوبے پر کام کے سلسلے میں متعلقہ ادارے کی جانب سے مین ہولز کھولے گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔