فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

پی آئی اے کی نجکاری کا اہم مرحلہ مکمل ، معاہدے پر دستخط ہوگئے

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کے حوالے سے حکومت اور عارف حبیب کنسروشیم کے مابین ٹرانزیکشن کے دستاویزات پر دستخط و تبادلے کی تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ آج پی آئی اے کی نجکاری کا عمل بخوبی انجام تک پہنچا ہے، عارف حبیب اور ان کی ٹیم کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، یہ دنیا میں پاکستان کے بہترین بزنس سفیر ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج پی آئی اے کی نجکاری کے معاہدے پر دستخط ہوگئے، میں سمجھتا ہوں کہ پی آئی اے کی پہلی ترجیع مسافروں کے لیے آرام دہ سفر، ان کی عزت، توقیر اور حفاظت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اپنے معرض وجود میں آنے کے بعد خصوصاً 60کی دہائی میں اپنے عروج پر تھا، مجھے یقین ہے کہ عارف حبیب اور اس کی ٹیم پی آئی اے کو دوبارہ اس کے کھوئے ہوئے مقام پر واپس لے جائے گی۔

قبل ازیں تقریب کے آغاز پر وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں ان دونوں کی رہنمائی اور مکمل تعاون نہ ہوتا تو یہ مرحلہ طے کرنا ممکن نہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ایک نہایت اہم سنگ میل ہے، پی آئی اے کی نجکاری کا یہ لین دین نہایت مؤثر اور شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا، جو حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک نمایاں حصہ ہے۔

محمد علی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت کنسورشیم کی جانب سے مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو تقریباً 650 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ اس رقم میں سے 125 ارب روپے، یعنی 450 ملین ڈالر، براہِ راست پی آئی اے میں لگائے جائیں گے، جبکہ 55 ارب روپے، جو 200 ملین ڈالر بنتے ہیں، حکومت کو ادا کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے میں لگایا جانے والا گروتھ کیپیٹل فضائی بیڑے میں توسیع، سروسز میں بہتری، نجی شعبے کے نظم و نسق کے نفاذ اور قومی ایئرلائن کو دوبارہ اس کے سنہری دور کی جانب لے جانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آج انجام کو پہنچا، پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے اپنے عروج پر تھا اس زمانے میں نہ صرف پاکستان کے شہروں میں بلکہ دنیا میں بورڈ لگے ہوتے تھے ’پی آئی اے گریٹ پیپل ٹو فلائی ود‘ مجھے کامل یقین ہے کہ عارف حبیب اور ان کی پوری ٹیم پی آئی اے کو اسی مقام پر لے کر جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔