تصویر: ناسا

زمین جتنے اور قابل رہائش،نزدیکی سیارے کی موجودگی کا انکشاف

 

ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً 146 نوری سال کے فاصلے پرزمین جتنے نئے سیارے کی نشاندہی کی ہے، جس نے ان قریبی دنیاوں میں دلچسپی بڑھادی ہے جو زندگی کو سہارا دے سکتی ہیں۔نیاسیارہ، جسے HD 137010 b کے نام سے جانا جاتا ہے، کا پتہ ناسا کے کیپلر خلائی دوربین کے K2 مشن سے 2017 میں جمع کیے گئے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا اور یونیورسٹی آف سدرن کوئنز لینڈ (USQ) کے محقق الیگزینڈر وینر کی سربراہی میں ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس کا تجزیہ کیا۔

 

ناسا کے مطابق، نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ایک ممکنہ چٹانی سیارہ جو زمین سے تھوڑا بڑا ہے، جو سورج کی طرح کے ایک ستارے کے گرد 146 نوری سال کے فاصلے پر چکر لگا رہا ہے۔

تحقیقی نتائج، دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہوئے ہیں۔مطالعہ کے مطابق، یہ سیارہ زمین سے تقریباً 6 فیصد بڑا ہے اور تقریباً 355 دن کے مدار کی پیروی کرتا ہے۔

محققین نے کہا کہ اس کے ستارے پر قابل رہائش زون میں رہنے کا تقریباً 50 فی صد امکان ہے، حالانکہ اس کی سطح کا درجہ حرارت مریخ کے قریب اور ممکنہ طور پرمنفی 94 ڈگری فارن ہائٹ سے کم ہو سکتا ہے۔

 

شریک مصنفہ چیلسی ہوانگ نے کہاہے کہ اس خاص زمینی سائز کے سیارے کی جو بات بہت دلچسپ ہے وہ یہ کہ اس کا ستارہ ہمارے نظام شمسی سے صرف [تقریباً] 150 نوری سال کے فاصلے پر ہے، نسبتاً قربت اسے مستقبل کے لیے ایک امید افزا ہدف بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سورج جیسے ستارے کے گرد زمین کے بعد بہترین سیارہ، رہنے کے قابل زون میں،کیپلر-186fتقریباً چار گنا دور اور 20 گنا زیادہ کمزور ہے۔

 

سیارے کے دھندلے سگنل کو سب سے پہلے جن سائنس دانوں نے دیکھا، ان میں مطالعے کے سرکردہ مصنف وینر بھی شامل تھے، جنہوں نے کہاکہ میں نے اس سٹیزن سائنس پروجیکٹ میں حصہ ڈالا تھا جسے پلانیٹ ہنٹرز کہتے ہیں جب میں سیکنڈری اسکول میں تھا۔

 

امریکی خلائی ادارے کا کہناہے کہ امکان ہے کہ زمین کی طرح، تقریباً ایک سال میں یہ سیارہ اپنے مدار پر چکرلگاتاہے۔ سیارہ HD 137010 b بھی اپنے ستارے کے رہنے کے قابل زون کے بیرونی کنارے کے اندر ہو سکتا ہے، یعنی مدار سے اتنا فاصلہ جو سیارے کی سطح پر موزوں ماحول کے تحت مائع پانی وجودمیں آنے دے سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔