ندیم بلوچ :
غزہ کی حمایت اقوام متحدہ کو مہنگی پڑگئی۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ ہمیشہ کیلئے دفن کرنے کیلئے امریکہ اوراسرائیل نے اقوام متحدہ کا متبادل پلیٹ فارم بورڈ آف پیش تیارکیا ہے۔ جبکہ اس کا ادارے کا لوگو بھی اقوام متحدہ طرز کا ہے۔
یورپی ماہرین کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس کا منصوبہ غزہ کی قیتمی زمین ہتھیانے اورفلسطین اسٹیٹ کا چیپٹر ہمیشہ کیلئے بند کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے، جسے اقوام متحدہ کے متبادل پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں اسرائیل براہ راست اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی ’’اونرا‘‘ کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں اونرا کے 190 سے زائد مراکز اور دفاتر کومکمل طور پرمسمار کردیا گیا ہے۔ یہ تنظیم فلسطینیوں کی امدادی سرگرمیوں کی کلیدی ذمہ دار تھی۔ اسرائیل نے باضابطہ قانون سازی کے ذریعے اونرا کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، جس کے نتیجے میں غزہ میں موجود اقوام متحدہ کے 13,000 سے زائد ملازمین کا مستقبل اور لاکھوں افراد کی خوراک و علاج کی فراہمی شدید خطرے میں پڑگئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ان کے اسرائیل داخلے پر پابندی لگا دی ہے، جو عالمی سفارتی تاریخ میں کسی بھی ریاست کی جانب سے اقوام متحدہ کے سربراہ کے خلاف ایک غیرمعمولی اور انتہائی قدم ہے۔ اسی طرح واشنگٹن مسلسل اقوام متحدہ کی فنڈنگ روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا بے دریغ استعمال کر کے اس ادارے کو ایک بانجھ ڈھانچے میں تبدیل کر چکا ہے۔
امریکہ کا مقصد اقوام متحدہ کو اتنا کمزورکر دینا ہے کہ دنیا مجبوراً بورڈ آف پیس جیسے نئے اتحادوں کی طرف دیکھے، جہاں انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے بجائے صرف طاقتور کی مرضی چلے گی۔ یہ عالمی نظام سے وہ راہ فرار ہے جو بین الاقوامی انصاف کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بورڈ آف پیس کا فارمولا کامیاب ہوا تو آزاد فلسطین کا مسئلہ عالمی ایجنڈے سے نکل کر چند مخصوص ممالک کی میز تک محدود ہو جائے گا، جہاں اسے اسرائیل کے مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا سکتا ہے۔
امریکہ نے اپنی حالیہ خارجہ پالیسی کے تحت اقوام متحدہ کے متعدد کلیدی اداروں سے ناطہ توڑ لیا ہے، جنوری 2026ء میں جاری ہونے والے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت امریکہ نے مجموعی طور پر 31 اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں سے دستبرداری کا عمل شروع کیا ہے، جن میں عالمی ادارہ صحت (WHO)، تعلیمی و ثقافتی تنظیم یونیسکو (UNESCO) اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) سرفہرست ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی اونرا کی فنڈنگ مستقل طورپربند کردی ہے اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی سمیت آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق بین حکومتی پینل سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے آبادیاتی فنڈ اورخواتین کے لیے اقوام متحدہ جیسے اہم ادارے بھی انخلا کی اس فہرست میں شامل ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos