سپریم کورٹ نے ایس ایچ او کو ’بخدمت جناب‘ لکھنا ممنوع قرار دے دیا ۔سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے 19 صفحات پرمشتمل فیصلہ تحریر کیا ہے، جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکتے پر عدالت نے واضح ہدایات دیں، عدالت کا کہنا ہے کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں فریادی کا لفظ لکھنا بھی ممنوقع قرار دے دیا، ’فریادی‘ رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔
عدالتی فیصلے میں کہاگیاہے کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے عوام اس کے نوکر نہیں، ایس ایچ او صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے گا، پرانی غلامانہ زبان ختم اور نوآبادیاتیسوچ مسترد کی جاتی ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر درج کرانے والا شہری اطلاع دہندہ ہوگا، شکایت کنندہ نہیں، کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہوگی۔
سپریم کورٹ نے ایف آئی آرکے اندراج میں تاخیرناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کوسخت وارننگ دی اور فیصلے میں کہا کہ ایف آئی آرمیں تاخیر پر پی پی سی 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے، ایف آئی آرمیں تاخیرسے شواہد ضائع ہونےکاخطرہ ہوتا ہے، پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویےمیں بڑی تبدیلی ضروری ہے، ایف آئی آر کےاندراج میں تاخیرکا رجحان سندھ میں نسبتاً زیادہ پایاجاتاہے۔
واضح رہے کہ پولیس اسٹیشن ٹنڈوغلام علی میں وقوعہ کےایک دن کی تاخیرسےایف آئی آردرج کی گئی تھی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos