ایمسٹرڈیم (امت نیوز)ہالینڈ کی معروف ٹلبرگ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق نے پاکستانی خاندانی نظام کی افادیت پر سائنسی مہر ثبت کر دی ہے۔ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جو دادا ،دادی یا نانا، نانی اپنے پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال میں وقت گزارتے ہیں۔ ان کا دماغ دیگر بزرگوں کی نسبت زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے اور وہ ڈیمنشیا (نسیاں) جیسے امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔جریدے Psychology and Aging میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں تقریباً 3,000 بزرگوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ کھیلنے، انہیں ہوم ورک کرانے، یا ان کے لیے کھانا تیار کرنے سے بزرگوں کی ’’وربل فلینسی‘‘ (بول چال کی روانی) اور یادداشت میں حیرت انگیز بہتری آتی ہے۔تحقیق کی سربراہ، فلاویا چیریچس (Flavia Chereches) کا کہنا ہے کہ اصل جادو وقت کی طوالت میں نہیں، بلکہ اس تعلق میں ہے۔ بچوں کے ساتھ بات چیت اور مصروفیت بزرگوں کے دماغ کو ایکٹو رکھتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے جم جانے سے جسم ایکٹو رہتا ہے۔تاہم رپورٹ میں ایک اہم تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ یہ فوائد صرف تب ملتے ہیں جب بزرگ اپنی خوشی سے بچوں کو وقت دیں۔اگر ان پر بچوں کی ذمہ داری بوجھ کے طور پر ڈالی جائے تو یہ ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos