کراچی میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے گل پلازہ سانحے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے سانحے کا ذمہ دار بلدیاتی اور صوبائی انتظامیہ کو قرار دیا۔
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ سانحے کو دو ہفتے سے زائد گزر چکے ہیں لیکن تاحال متاثرہ خاندانوں کو ان کے پیاروں کی تمام باقیات فراہم نہیں کی جا سکیں۔ ان کے مطابق 87 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، مگر اب تک صرف 42 افراد کی باقیات ورثا کے حوالے کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں مسلسل سانحات پیش آ رہے ہیں اور تمام متعلقہ محکمے ناکامی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثات کے بعد صرف یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ حفاظتی انتظامات، کِٹس یا مناسب لباس موجود نہیں تھا، مگر اصل ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی۔
منعم ظفر نے پی ڈی ایم اے، ایم ڈی ایم اے، سول ڈیفنس اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ تمام ادارے عملی طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔
انہوں نے ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے بھی تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پہلے 84 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا گیا، پھر کے ایم سی کے 46 ارب روپے کے ترقیاتی کاموں کی بات کی گئی اور بعد ازاں 21 ارب روپے کے ڈیولپمنٹ فنڈ کا ذکر سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی فنڈز کو شامل کر لیا جائے تو کراچی کو وسائل کی کمی نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ خرچ کہاں ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کریم آباد انڈر پاس کی تکمیل کی تاریخیں بار بار تبدیل کی جا رہی ہیں اور حکومت محض اعلانات پر اعلانات کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق زمینی حقائق دعوؤں کے برعکس ہیں اور شہر کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos