اسپین میں تارکین وطن کو قانونی حیثیت مل گئی،کون فائدہ اٹھائے گا ؟

 

ہسپانوی حکومت کی جانب سے معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے 5 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کوقانونی حیثیت دینے کا اعلان کیاگیاہے۔اس کے تحت قانونی حیثیت اُن غیر ملکی شہریوں کو دی جائے گی، جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہو گا اور جو یہ ثابت کر سکیں گے کہ وہ 31 دسمبر 2025 سے قبل کم از کم پانچ ماہ تک اسپین میں ہی مقیم رہے ہیں۔

مستفید ہونے والوں کو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے رہائشی اجازت نامہ دیا جائے گا، جس کے بعد اس میں توسیع بھی ممکن ہو گی۔ قانونی حیثیت کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے اور یہ عمل جون کے آخر تک جاری رہے گا۔درخواست دہندگان کے لیےپاسپورٹ اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا۔قانونی دستاویزات کےحصول کے اعلان کے بعد مختلف ممالک کے سفارتخانوں اور قونصلیتوں کے باہر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں،جہاں تارکین وطن ضروری کاغذات مکمل کروانے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

ماہرین کےمطابق اس فیصلے سے اسپین میں مقیم ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی تحفظ اور روزگار کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔

وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے تارکینِ وطن کو اسپین کے لیے دولت، ترقی اور خوشحالی قرار دیتے ہوئے سماجی تحفظ کے نظام میں ان کی شراکت کا حوالہ دیا ہے۔حکومت اور بائیں بازو کی جماعتوں نے تارکینِ وطن کے ساتھ انسانی سلوک کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران اسپین میں تارکینِ وطن کی بڑی تعداد پہنچی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔