فائل فوٹو
فائل فوٹو

آب گاہوں کے عالمی دن پر ذمے دار ادارے بدستور سوتے رہے

کراچی: پاکستان میں آب گاہوں کے عالمی دن (2 فروری) کے موقع پر سرکاری سطح پر کوئی نمایاں تقریب یا فیلڈ میں کوئی علامتی سرگرمی نہیں ہوئی، حالانکہ ملک ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں قدرتی آب گاہیں نہ صرف حیاتیاتی تنوع بلکہ موسمیاتی توازن، سیلابی کنٹرول اور غذائی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق خاموشی سے گزر جانے والا یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں آب گاہوں کے تحفظ کا اصل مسئلہ آگاہی کی کمی سے زیادہ کمزور نگرانی اور غیر مؤثر عمل درآمد ہے۔

پاکستان میں آب گاہوں کے تحفظ کی ذمے داری وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم ہے۔ وفاقی سطح پر وزارتِ موسمیاتی تبدیلی بین الاقوامی معاہدوں، پالیسی سازی اور رپورٹنگ کی ذمے دار ہے، جبکہ عملی سطح پر صوبائی محکمے، جن میں جنگلی حیات، جنگلات، ماحولیات، فشریز اور مقامی انتظامیہ شامل ہیں جو آب گاہوں کی نگرانی اور تحفظ کے امور انجام دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کے باعث یہی تقسیم اکثر عملی خلا میں بدل جاتی ہے، جس سے تجاوزات اور آلودگی کو موقع ملتا ہے۔

واضح رہے کہ آب گاہیں دراصل وہ قدرتی یا نیم قدرتی علاقے ہوتے ہیں جہاں پانی مستقل یا عارضی طور پر موجود رہے، جیسے جھیلیں، دلدلی علاقے، دریائی کنارے، ساحلی پٹی، مینگرووز اور نمکین پانی کے میدان وغیرہ۔ ماہرین کے مطابق یہ علاقے بارش کے پانی کو جذب کر کے سیلابی شدت کم کرتے ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھتے ہیں، ماہی گیری اور مقامی روزگار کو سہارا دیتے ہیں اور لاکھوں آبی پرندوں و جنگلی حیات کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آب گاہوں کو قدرتی ماحولیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان آب گاہیں بچانے کے عالمی فریم ورک رامسر کنونشن کا رکن ہے اور ملک میں اس وقت 19 آب گاہیں بین الاقوامی اہمیت کی حامل رامسر سائٹس کے طور پر تسلیم شدہ ہیں، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً 13 لاکھ ہیکٹر سے زائد ہے۔ رامسر کنونشن پر عمل درآمد کی ذمہ داری وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے پاس ہے، تاہم ماہرین کے مطابق کئی رامسر سائٹس پر قانونی تحفظ کے باوجود آلودگی، پانی کی کمی، غیر قانونی شکار اور تجاوزات جیسے مسائل بدستور موجود ہیں، جو کنونشن کی روح سے متصادم ہیں۔

ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آب گاہوں کو سب سے بڑے خطرات میں موسمیاتی تبدیلی، دریاؤں میں پانی کے قدرتی بہاؤ میں کمی، صنعتی و زرعی فضلے کا اخراج، غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ اور ساحلی علاقوں میں مینگرووز کی کٹائی شامل ہیں۔ ان عوامل کے باعث متعدد قدرتی جھیلیں اور دلدلی علاقے سکڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف ماحولیاتی توازن بلکہ مقامی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

سرکاری سطح پر بعض مثبت اقدامات ضرور کیے گئے ہیں، خصوصاً سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز کی بحالی اور کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن پروگرامز کے ذریعے تاہم ماہرین کے مطابق ان کوششوں سے بعض مقامات پر بہتری آئی ہے، لیکن مجموعی سطح پر پیش رفت اب بھی سست ہے اور ملک گیر نگرانی، ڈیٹا اپ ڈیٹ اور سخت نفاذ کے بغیر یہ بہتری دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔

ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ اگر آب گاہوں کا عالمی دن محض علامتی بیانات تک محدود رہا تو پاکستان قیمتی قدرتی نظام کھوتا چلا جائے گا۔ ان کے مطابق حقیقی بہتری اسی وقت ممکن ہے جب ہر بڑی آب گاہ کے لیے واضح ذمے داری، قابلِ پیمائش نتائج اور مستقل مانیٹرنگ کو قومی ترجیح بنایا جائے کیونکہ آب گاہوں کا تحفظ دراصل انسانی مستقبل کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔