تصویر آئی ایس پی آر

لیبیائی مسلح افواج کے وفد کی پاکستانی فوجی قیادت سے ملاقاتیں

 

لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر نے ڈپٹی کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کے ہمراہ پاک فوج کے سربراہ ،چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جنرل ہیڈ کوارٹرزمیں ملاقات کی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور لیبیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے لیبیا میں امن، استحکام اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے پاکستان کی حمایت پر زور دیا۔

شعبہ تعلقات عام پاک فوج کے مطابق،ملاقات کے دوران فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، خاص طور پر متعلقہ خطوں میں سیکورٹی امور اور پیشہ ورانہ تعاون پر توجہ دی گئی۔ بات چیت میں پاکستان اور لیبیا کی مسلح افواج کے درمیان مسلسل مصروفیت اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی جو پاکستان اور لیبیا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔قبل ازیں نور خان ایئربیس پہنچنے پر فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر کا استقبال فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے کیا۔ معزز مہمان نے شہدا کو خراج عقیدت بھی پیش کیا اور جی ایچ کیو میں یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

لیبیا کے ڈپٹی کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کے ماحول اور دوطرفہ فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

لیبیا کے ڈپٹی کمانڈر انچیف جنرل صدام خلیفہ حفتر کی پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات

ائیر چیف نے پاکستان اور لیبیا کے درمیان مضبوط مذہبی اور تاریخی تعلقات، پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری، جدید کاری، ملٹی ڈومین کی صلاحیت کی ترقی، اور مقامی بنانے، اختراعات اور انسانی وسائل کی ترقی پر زور دیا۔ انہوں نے لیبیا کی فضائیہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے پی اے ایف کے عزم کا اعادہ کیا۔

لیباکے فوجی وفد کو نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے تحت پی اے ایف کے مقامی بنانے کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے پی اے ایف کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور مشترکہ تربیت، مشقوں اور پیشہ ورانہ تبادلوں کے ذریعے تعاون کو بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک نئی رفتار کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔