ہائی کورٹس کا دائرہ اختیار محدود،فیصلے جذبات نہیں قانون کے مطابق ہوں گے:وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئین کے تحت ہائی کورٹس کا دائرہ اختیار محدود ہے اور عدالتوں کو ہمدردی یا ذاتی احساسات کے بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں۔

عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا وہ حکم منسوخ کر دیا جس کے ذریعے ایک طالبعلم کو اسپیشل یا سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ قوانین، ضابطوں یا ریگولیشنز میں ایسے کسی امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی جذبات کی بنیاد پر اس نوعیت کے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ہمدردی اور اخلاقیات قانون کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ ججز پر لازم ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے قانون کے مطابق پورے کریں، کیونکہ عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ آئینی اور قانونی حدود کے اندر فیصلے کرنے میں مضمر ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ عدالتی فیصلے ذاتی عقائد، سیاسی حقائق یا اخلاقی رجحانات کی بنیاد پر نہیں ہو سکتے۔ ججز نجی افراد نہیں بلکہ غیرجانبدار منصف ہوتے ہیں، اور ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود اختیارات رکھتی ہیں اور صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں واضح طور پر دیے گئے ہوں۔ عدالت نے زور دیا کہ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر آرٹیکل 187 کے تحت ہمدردی یا انصاف پر مبنی غیر معمولی اختیار موجود ہے تو وہ صرف سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔

پس منظر کے طور پر عدالت نے بتایا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ اور بعد ازاں سپلیمنٹری امتحان میں شرکت نہ کر سکے تھے۔ طالبعلم کی جانب سے وائس چانسلر کو دی گئی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، جہاں انہیں خصوصی امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی۔

وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو آئین اور قانون سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔

یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔