اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت کے علاقے شہزاد ٹاؤن (ترلی) میں واقع امام بارگاہ پر خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں اور وفاقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے، جس کا تعلق افغانستان سے ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں مقیم تھا اور متعدد بار سرحد پار آمد و رفت کر چکا تھا۔ تفتیشی ٹیموں کا کہنا ہے کہ حملہ آور کچھ عرصہ قبل ہی ایک منظم منصوبے کے تحت پاکستان داخل ہوا تھا تاکہ دارالحکومت میں حساس مقامات کو نشانہ بنا سکے۔
حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان تخریبی کارروائیوں کے پیچھے افغان سر زمین اور بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا گٹ جوڑ کارفرما ہے۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ اور مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے پڑوسی ملک کی سرزمین کو استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے امن و امان کو سبوتاژ کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکا ہوا، جس میں 31 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos