ترلائی کلاں سانحہ، آئی جی اسلام آباد کے کزن بھی شہداء میں شامل

سانحہ ترلائی کلاں نے پورے ملک کو غم میں مبتلا کر دیا، اس المناک واقعے میں 32 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ جمعہ کی نماز کے دوران دہشت گرد نے مسجد میں موجود نمازیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی گھر اجڑ گئے۔

ذرائع کے مطابق شہداء میں انسپکٹر جنرل اسلام آباد کے ایک قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور حملہ آور سے متعلق اہم شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی اور اس کے افغانستان آنے جانے کا باقاعدہ ریکارڈ بھی سامنے آ گیا ہے۔ کارروائی کے دوران پشاور میں حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے اس کے دو بھائیوں اور ایک خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ادھر پمز ہسپتال نے سانحہ ترلائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ترجمان کے مطابق 28 لاشیں اور 121 زخمی پمز منتقل کیے گئے۔ زخمیوں کی جان بچانے کے لیے اب تک 20 بڑے آپریشن کیے جا چکے ہیں جبکہ متبادل آپریشن تھیٹرز میں مزید 4 سے 6 پیچیدہ سرجریز جاری ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کے لیے 60 سے زائد خون کی بوتلیں فراہم کی جا چکی ہیں۔ ڈیوٹی اوقات ختم ہونے کے باوجود ڈاکٹرز، سرجنز اور نرسنگ اسٹاف بدستور خدمات انجام دے رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔