بنگلہ دیش الیکشن کی دوڑمیں خالدہ ضیاکی پارٹی سب سے آگے،عالمی میڈیا

 

بین الاقوامی میڈیاکا کہناہے کہ بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں خالدہ ضیاکی پارٹی دوڑمیں سب سے آگے دکھائی دیتی ہے،جماعت اسلامی کوبھی طویل جبرکے بعد واپسی کا موقع ملاہے۔احتجاجی تحریک سے وجود میں آنے والی ،طلبا کی نیشنل سٹیزن پارٹی بھی قابل ذکرہے۔نوجوانوں کو الیکشن سے تبدیلی کی امید ہے۔شیخ حسینہ واجد کےایک دہائی سے زیادہ اقتدارکے بعد پہلی بار شفاف انتخابات کی توقع بھی کی جارہی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ، سابق وزیراعظم شیخحسینہ اور ان کی پارٹی عوامی لیگ کی غیر موجودگی اس کی تاریخی حریف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے لیے باعث اطمینان ہے۔سابق وزیر اعظم اور حسینہ کی سخت حریف مرحومہ خالدہ ضیاء کے بیٹےبی این پی کے رہنما طارق رحمان، جو، 17 سالہ جلاوطنی کے بعد واپس آئے ہیں، اب وہ الیکشن کی دوڑمیں سب سے آگے دکھائی دے رہے ہیں۔

مقابلے میں واپسی سے لطف اندوزہونے والی ایک اورسیاسی طاقت جماعت اسلامی ہے،جو حسینہ کے تحت سال ہا سال تک جبر کا نشانہ رہنے کے بعد پھرزندہ ہو رہی ہے۔دریں اثناء نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جس کی بنیاد طلباء نے بغاوت کے بعد رکھی تھی، بنگلہ دیش کےسیاسی منظر نامے میں بامعنی طور پر اپنا راستہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔دسمبر کے آخر میں، اس نے بہت سے لوگوں کوحیران کر دیاتھا جب اس نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔

روئٹرزکے مطابق ،بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی بڑے پیمانے پر جیت متوقعہے، حالانکہ اسلامی جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد ایک مضبوط چیلنج ہوگا۔بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کا دعویٰ ہے کہ ان کی پارٹی، جو 300 میں سے 292 پارلیمانی نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے،حکومت بنائے گی۔

رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ بی این پی کو برتری حاصل ہے۔لیکن ماہرین کے مطابق ووٹرز کا ایک اہم حصے کا کردار اب تک غیرحتمی ہے، ڈھاکہ کے سینٹر فار گورننس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پرویز کریم عباسی نے کہا کہ کئی عوامل نتائج کو تشکیل دیں گے، بشمول جنریشن زی جو کہ ووٹرز کا ایک چوتھائی حصہ بنتا ہے –

الجزیرہ کے مطابق،بنگلہ دیش دنیا کی سب سے کم عمر آبادیوں میں سے ایک ہے، جس کا ایک اہم حصہ 30 سال سے کم عمر ہے۔ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سے 37سال کے، تقریباً 56 ملین، یا 44 فیصدووٹرز ہیں، اور تقریباً50 لاکھ پہلی بار ووٹ دینے والے ہیں۔

جمعرات کے انتخابات کو بہت سے لوگ ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلا آزادانہ اور منصفانہ الیکشن قرار دے رہے ہیں، اوراس روز ڈھاکہ کی سڑکوں پر، گہما گہمی متوقع ہے۔احتجاجی تحریک میں شامل کارکنوں کے مطابق،یہ ا نتخاب کچھ نیا لا سکتا ہے،اس کے لیے ہم پرجوش ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔