سینیٹ میں منظور شدہ ترمیمی بل کے تحت وفاقی حکومت ان ممالک کے ساتھ میوچوئل لیگل اسسٹنس ٹریٹی کرے گی جہاں کی سوشل میڈیا ایپس پاکستان میں استعمال ہوتی ہیں۔
کرمنل قوانین میں ترمیم کے تحت ریپ کے شکار بچوں یا لڑکیوں کا میڈیکل نہ دینے پر ایک سال تک قید اور جرمانہ ہوگا، اور نجی یا سرکاری اسپتال متاثرہ کو فوری ابتدائی طبی امداد نہ دینے پر سزا کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔ نجی اسپتال 24 گھنٹے کے اندر متاثرہ کو سرکاری اسپتال بھیجنے کے پابند ہوں گے۔
انسداد الیکٹرانک کرائمز بل میں بچوں کی فحش ویڈیوز کی سزائیں سات سال سے بڑھا کر 10 سال اور جرمانہ 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز شامل ہے۔
اس کے علاوہ سینیٹ نے ثمینہ زہری کا فیملی کورٹ ترمیمی بل اور شیری رحمان کا اسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل بھی منظور کرلیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos