کیاجیفری ایپسٹن نے غلاف کعبہ کی بے حرمتی کی تھی؟حقائق سامنے آگئے۔

 

امریکی محکمہ انصاف کی نئی ای میلز کے مطابق، سزا یافتہ جنسی مجرم کی اماراتی تاجرکے ساتھ ایک تصویر آئی ہےاس تصویر کا بظاہر تاثر یہ ہے کہ جیفری ایپسٹین اور ممتاز اماراتی تاجر سلطان احمد بن سلیم اپنے پیروں میں بچھے ہوئے کپڑے کے ایک ٹکڑے کا جائزہ لے رہے ہیں جو غلاف کعبہ کی طرح معلوم ہوتا ہے۔

 

نئی ایپسٹین فائلز میں ایسی ای میلز شامل ہیں جن میں مبینہ طورپر خانۂ کعبہ کے غلاف یعنی کسواکے حصوں یاٹکڑوں کی امریکا ترسیل کی تفصیلات درج ہیں۔ یہ ترسیل ایک خلیجی ملک سے ہوئی تھی اور مذکورہ اشیا جیفری ایپسٹین تک پہنچائی گئیں۔ فروری اور مارچ 2017 کی خط و کتابت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی نے کسوا سے منسوب تین ٹکڑوں کی کھیپ بھجوائی تھی۔

ایپسٹین فائلز میں موجود ای میلز کے مطابق یہ اشیا سعودی عرب سے برٹش ایئرویز کے ذریعے فلوریڈا بھیجی گئیں۔ اس عمل میں انوائسز، کسٹم انتظامات اور امریکا کے اندر ترسیل شامل تھی۔ پیغامات میں ،کپڑے کے تین الگ الگ حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ایک خانۂ کعبہ کے اندر سے، دوسرا بیرونی غلاف کا استعمال شدہ حصہ، اور تیسرا اسی مواد سے تیار کردہ مگر استعمال نہ ہونے والا ٹکڑا۔غیر استعمال شدہ ٹکڑے کو ترسیل کے لیے آرٹ ورک کے طور پر درج کرنے کا ذکر بھی کیا گیا۔

ای میلزکے مطابق ،یہ کھیپ مارچ 2017 میں ایپسٹین کے گھر پہنچی، اس وقت جب وہ اپنی سزا پوری کر چکا تھا اور بطور جنسی مجرم رجسٹرڈ تھا۔ ایک ای میل میں عزیزہ الاحمدی نے براہِ راست ایپسٹین کو مخاطب کرتے ہوئے کپڑے کی مذہبی اہمیت اجاگر کی۔ای میل میں جیفری ایپسٹین کو لکھا گیا کہ یہ کعبہ سے اتارا گیا غلاف ہے اور اس کو کم از کم ایک کروڑ مسلمانوں نے ہاتھ لگایا ہے۔

 

معاملے کی حقیقت کیا ہے، کیا واقعی ایپسٹن نے غلاف کعبہ کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا تھا، اس کی تفصیل وڈیومیں جانیئے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔