فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے راستے بند،اراکینِ اسمبلی کو بھی روک دیا گیا

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کی کال اور ممکنہ دھرنے کے پیش نظر پارلیمنٹ لاجز کے باہر صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔ پی ٹی آئی کے ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے احتجاجی پروگرام کے اعلان کے ساتھ ہی اسلام آباد پولیس نے حرکت میں آتے ہوئے لاجز کے تمام داخلی و خارجی راستوں کا گھیراؤ کر لیا۔

جب پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی نے لاجز سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو پولیس کے ساتھ ان کی تکرار ہوئی۔ ارکان نے عمران خان کے حق میں اور پولیس کارروائی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

پارلیمنٹ گیٹ کے باہر بکتر بند گاڑیاں پہنچا دی گئیں جبکہ اسلام آباد ریڈ زون کو مکمل بند کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہے، ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا۔

پولیس کی جانب سے کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس جانے نہیں دیا جا رہا۔ پولیس نے ممبر اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو ریڈیو پاکستان چوک پر روک لیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا دھرنا پرامن ہوگا، بانی پی ٹی آئی سے ان کے ذاتی معالج اور فیملی کی ملاقات کروائی جائے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا پہلے مجھے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے، ملک میں اچھے ڈاکٹرز موجود ہیں ان کا علاج کروانا چاہتے ہیں، اس معاملے کو الجھائے بغیر حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔