ڈھاکا: بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی انقلاب کے بعد مذہبی و عوامی حلقوں میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اور قومی مسجد ‘بیت المکرم’ (جاتیہ مسجد) کی امامت و خطابت کے لیے پاکستان کے معروف عالمِ دین مولانا عبد المالک کا انتخاب کیا گیا ہے، جن کا علمی و تعلیمی تعلق پاکستان کے مایہ ناز تعلیمی ادارے جامعہ دارالعلوم کراچی سے ہے۔
مولانا عبد المالک عالمِ اسلام کی معروف علمی شخصیت ہیں اور وہ پاکستان میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کے قائم کردہ ادارے ‘دارالعلوم کراچی’ کے فاضل ہیں۔ انہوں نے وہاں سے حدیث اور فقہ میں تخصص حاصل کیا اور ان کا شمار بنگلہ دیش کے جید ترین علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ ان کی علمی قابلیت اور اعتدال پسندانہ مزاج کی وجہ سے انہیں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس نے اس اہم منصب کے لیے منتخب کیا ہے۔
حسینہ واجد کی حمایت اور برطرفی کی وجہ
سابق دورِ حکومت میں مسجد کے خطیب مفتی روح الامین تھے، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے شیخ حسینہ واجد کے 17 سالہ دورِ اقتدار میں ان کی بھرپور حمایت کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، ایک ایسے وقت میں جب جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کی قیادت کو پھانسیاں دی جا رہی تھیں یا جیلوں میں ڈالا جا رہا تھا، مفتی روح الامین نے حسینہ واجد کو ‘قوم کی ماں’ کا لقب دیا تھا، جس پر انقلابی طلبہ اور مذہبی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔
اس اقدام کو عوامی سطح پر "زخموں پر نمک چھڑکنے” کے مترادف سمجھا گیا، جس کی وجہ سے انقلاب کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
مولانا عبد المالک نے جب بیت المکرم میں اپنے پہلے خطبہِ جمعہ کا آغاز کیا تو وہاں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ملک میں امن و امان، اتحاد اور انصاف کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر بنگلہ دیشی میڈیا کی بھی بڑی تعداد موجود تھی، کیونکہ بی این پی کے رہنما طارق رحمان کی اپیل پر ملک بھر میں ‘یومِ شکرانہ’ منایا جا رہا تھا۔
مولانا عبد المالک کی اس اہم منصب پر تعیناتی کو پاکستان کے علمی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ایک پاکستانی تعلیمی ادارے کے تربیت یافتہ عالمِ دین اب بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مسجد سے لاکھوں مسلمانوں کی رہنمائی کریں گے۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مولانا عبد المالک اپنی علمی بصیرت سے مسجد بیت المکرم کے وقار کو بحال کریں گے اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos